چین نے پاکستان کو مویشیوں کی دو اہم بیماریوں، لمپی سکن ڈیزیز اور بروسیلوسس، کے خلاف ویٹرنری ویکسین فراہم کی ہیں۔ وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق اور ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق ویکسین کی حوالگی کی تقریب نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر اسلام آباد میں ہوئی، جہاں وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے زرعی سائنس دانوں اور محققین پر زور دیا کہ وہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے کے تحت جدید اور ہدفی منصوبے تیار کریں۔
سرکاری معلومات کے مطابق ویکسین چین کی وزارت زراعت و دیہی امور کی جانب سے عطیہ کی گئی ہیں اور ان کا مقصد پاکستان میں مویشیوں کی بیماریوں پر قابو پانے کی صلاحیت مضبوط کرنا ہے۔ لمپی سکن بیماری مویشیوں میں جلدی زخم، بخار اور پیداوار میں کمی کا سبب بن سکتی ہے، جبکہ بروسیلوسس جانوروں کی تولیدی صحت اور بعض حالات میں انسانی صحت کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔ ویکسینیشن بیماریوں کی روک تھام کے وسیع پروگرام کا ایک حصہ ہے جس کے ساتھ نگرانی، تشخیص اور بائیو سکیورٹی اقدامات بھی ضروری ہوتے ہیں۔
رانا تنویر حسین نے تقریب میں کہا کہ لائیو اسٹاک پاکستان کی زرعی معیشت کا تقریباً 60 فیصد حصہ بناتا ہے اور دیہی روزگار، آمدن اور غذائی تحفظ میں مرکزی کردار رکھتا ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ سی پیک 2.0 میں زراعت کو زیادہ نمایاں مقام دیا جائے، جس میں پیداوار بڑھانے، تحقیق، بیماریوں کے کنٹرول، ویلیو چین اور جدید ٹیکنالوجی کے منصوبے شامل ہو سکتے ہیں۔
ویکسین کی فراہمی ایک تعاون کا اقدام ہے، لیکن بیماریوں کے قومی بوجھ میں کمی کا حتمی اثر ویکسین کی مقدار، تقسیم، مطلوبہ علاقوں کی نشاندہی، کولڈ چین، جانوروں کی کوریج اور نگرانی کے معیار پر منحصر ہوگا۔ اس مرحلے پر دستیاب رپورٹ میں پورے ملک کے لیے ویکسین کی خوراکوں کی تعداد یا صوبہ وار تقسیم کی مکمل تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے اثر کے بارے میں غیر مصدقہ اندازے مناسب نہیں ہوں گے۔
پاکستان اور چین کے زرعی تعاون میں سی پیک کے دوسرے مرحلے کے تحت تحقیق، ٹیکنالوجی منتقلی اور زرعی پیداوار کی جدیدکاری کو بڑھانے کی بات کی جا رہی ہے۔ تازہ ویکسین عطیہ اسی وسیع تعاون کا عملی حصہ ہے۔ متعلقہ اداروں کے لیے اگلا اہم مرحلہ یہ ہوگا کہ فراہم کردہ ویکسین کو بیماری کے خطرے والے علاقوں میں مؤثر پروگرام کے تحت استعمال کیا جائے اور نتائج کو قابل پیمائش ڈیٹا کے ذریعے جانچا جائے۔




