چین نے پاکستان کو مویشیوں میں لمپی اسکن بیماری اور بروسیلا میلی ٹینسس کے خلاف استعمال ہونے والی ویٹرنری ویکسین عطیہ کی ہیں۔ دو ستمبر 2026 کو اسلام آباد کے نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر میں منعقدہ تقریب میں چین کی وزارت زراعت و دیہی امور کی جانب سے فراہم کردہ ویکسین پاکستانی حکام کے حوالے کی گئیں۔
پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق تقریب میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین، چینی سفارت خانے کے ناظم الامور شی یوان چیانگ، وفاقی وزارت کے سیکریٹری، پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کے چیئرمین، سائنس دان، ویٹرنری ماہرین اور دونوں ملکوں کے حکام شریک ہوئے۔ سرکاری اعلامیے میں عطیہ کی گئی خوراکوں کی تعداد، مالیت یا صوبہ وار تقسیم کا مکمل شیڈول جاری نہیں کیا گیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ لمپی اسکن بیماری مویشیوں میں دودھ کی پیداوار گھٹنے، وزن کم ہونے، کھال کو نقصان اور تولیدی پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہے۔ بروسیلا میلی ٹینسس سے تولیدی مسائل، اسقاط اور مجموعی پیداواری صلاحیت میں کمی کا خطرہ رہتا ہے۔ ان بیماریوں کے معاشی اثرات بالخصوص چھوٹے مویشی پال کسانوں کی آمدن، دودھ اور گوشت کی پیداوار اور دیہی روزگار تک پہنچ سکتے ہیں۔ یہ طبی اور معاشی اثرات وزارت کی جانب سے ویکسین عطیے کی ضرورت کے پس منظر کے طور پر بیان کیے گئے۔
حکومت نے کہا ہے کہ ویکسین کو متعلقہ فنی اور ضابطہ جاتی تقاضوں کے مطابق استعمال کیا جائے گا۔ اس میں معیار کی تصدیق، مناسب کولڈ چین برقرار رکھنا، تربیت یافتہ عملے کے ذریعے درست طریقے سے ویکسین لگانا اور بعد از استعمال نگرانی شامل ہے۔ ویکسین کی موجودگی بذاتِ خود مکمل بیماری کنٹرول کی ضمانت نہیں؛ مؤثر نتائج کے لیے محفوظ نقل و حمل، ہدف بنائے گئے جانوروں کی شناخت، مقررہ خوراک اور بیماری کی مسلسل نگرانی ضروری ہوگی۔
وفاقی وزارت قومی غذائی تحفظ نے صوبائی لائیو اسٹاک محکموں، ویٹرنری خدمات اور تحقیقی اداروں کے ساتھ رابطہ جاری رکھنے کا اعلان کیا تاکہ حفاظتی مداخلتوں پر عمل درآمد ہوسکے۔ تقریب کے دوران ویکسین لگانے کے طریقہ کار کا عملی مظاہرہ بھی کیا گیا۔ اعلامیے میں یہ نہیں بتایا گیا کہ پہلی مہم کن اضلاع سے شروع ہوگی یا کتنے جانور فوری طور پر اس عطیے سے مستفید ہوں گے، اس لیے قومی سطح کی مکمل ویکسینیشن کوریج کا دعویٰ ابھی نہیں کیا جاسکتا۔
رانا تنویر حسین نے چین کی ویٹرنری خدمات، حیاتیاتی ٹیکنالوجی، زرعی تحقیق اور بیماریوں کی روک تھام میں مہارت سے مزید فائدہ اٹھانے کی خواہش ظاہر کی۔ انہوں نے عطیے کو پاکستان اور چین کے درمیان زراعت، لائیو اسٹاک، سائنس اور تحقیق میں بڑھتے ادارہ جاتی تعاون کا حصہ قرار دیا۔ چینی اور پاکستانی ماہرین کی شمولیت سے یہ اقدام صرف اشیا کی حوالگی کے بجائے فنی تعاون اور بیماری کنٹرول کی صلاحیت بہتر بنانے کی کوشش کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
مویشی پاکستان کی زرعی معیشت اور دیہی خاندانوں کے اثاثوں کا اہم حصہ ہیں، اس لیے متعدی بیماریوں کی روک تھام خوراک کی رسد اور کسانوں کی آمدن دونوں سے جڑی ہے۔ تاہم عطیے کے حقیقی اثرات کا جائزہ ویکسین کی مقدار، جغرافیائی تقسیم، مستحق جانوروں کی کوریج، بیماری کے نئے کیسوں اور نگرانی کے نتائج سے ہوگا۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ دونوں مخصوص بیماریوں کے خلاف چینی ویکسین پاکستان کے حوالے کردی گئی ہیں اور حکومت نے انہیں کولڈ چین، ضابطہ جاتی معیار اور صوبائی رابطہ کاری کے تحت استعمال کرنے کا اعلان کیا ہے۔




