چین نے پاکستان کو مویشیوں میں متعدی بیماریوں کے تدارک کے لیے لمپی اسکن ڈیزیز اور بروسیلا میلیٹینسس کے خلاف ویٹرنری ویکسینز عطیہ کی ہیں۔ ویکسینز نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر اسلام آباد میں منعقدہ تقریب میں پاکستانی حکام کے حوالے کی گئیں، جہاں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، چینی سفارتخانے کے ناظم الامور شی یوان چیانگ، سائنسدان اور لائیو اسٹاک ماہرین شریک تھے۔
رانا تنویر حسین نے کہا کہ بروقت ویکسینیشن مویشیوں کو متعدی بیماریوں سے بچانے، بیماری کی منتقلی کم کرنے اور کسانوں کے پیداواری و معاشی نقصانات محدود کرنے کے مؤثر طریقوں میں شامل ہے۔ پاکستان کی دیہی معیشت میں مویشی چھوٹے کسانوں کے لیے آمدن، دودھ، گوشت اور معاشی تحفظ کا اہم ذریعہ ہیں۔
لمپی اسکن ڈیزیز دودھ کی پیداوار، وزن، کھال اور جانوروں کی مجموعی صحت کو متاثر کر سکتی ہے، جبکہ بروسیلا تولیدی مسائل اور اسقاط حمل سمیت نقصانات کا باعث بنتی ہے۔ بروسیلا کی بعض اقسام انسانوں کے لیے بھی صحت کا خطرہ بن سکتی ہیں، اس لیے بیماریوں کی نگرانی اور ویکسینیشن جانوروں کے ساتھ عوامی صحت کے لیے بھی اہم ہے۔
وزارت کے مطابق عطیہ کردہ ویکسینز کو تکنیکی اور ریگولیٹری تقاضوں، کولڈ چین اور نگرانی کے نظام کے تحت استعمال کیا جائے گا۔ وفاقی وزارت صوبائی لائیو اسٹاک محکموں، ویٹرنری سروسز اور تحقیقی اداروں کے ساتھ مل کر تقسیم اور استعمال کے انتظامات کرے گی۔
یہ عطیہ پاکستان چین زرعی تعاون کے وسیع فریم ورک کا حصہ ہے، جس میں تحقیق، بائیوٹیکنالوجی، بیماریوں کی روک تھام اور زرعی پیداوار شامل ہیں۔ ویکسینز کا حقیقی اثر ان کی مناسب تقسیم، بیماری کے خطرے والے علاقوں کی درست شناخت اور ویکسینیشن کوریج پر منحصر ہوگا۔ اگر نگرانی اور کولڈ چین مؤثر رہے تو یہ اقدام مویشیوں کے نقصانات کم کرنے اور کسانوں کی آمدن محفوظ رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔




