بیجنگ: چین کے وزیراعظم لی چیانگ نے جرمن صدر فرینک والٹر شٹائن مائر سے ملاقات میں کہا ہے کہ بیجنگ جرمنی سے مزید اعلیٰ معیار کی مصنوعات درآمد کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یورپی یونین اور چین کے درمیان تجارتی تحفظ، صنعتی سبسڈی اور منڈی تک رسائی کے معاملات پر دباؤ بڑھا ہوا ہے۔
رائٹرز کے مطابق لی چیانگ نے بیجنگ میں ہونے والی ملاقات کے دوران دوطرفہ تجارت کو وسعت دینے اور اقتصادی روابط مستحکم رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ جرمنی یورپ کی سب سے بڑی معیشت اور چین کے اہم یورپی تجارتی شراکت داروں میں شامل ہے، اس لیے دونوں ملکوں کے درمیان صنعتی سامان، گاڑیوں، مشینری اور دیگر مصنوعات کی تجارت وسیع اقتصادی اہمیت رکھتی ہے۔
چینی وزیراعظم کا مزید جرمن مصنوعات درآمد کرنے کا پیغام اس پس منظر میں اہم ہے کہ یورپی ممالک حالیہ برسوں میں چین کے ساتھ تجارتی عدم توازن، مقامی صنعتوں پر مسابقتی دباؤ اور بعض شعبوں میں چینی سرکاری معاونت کے اثرات پر بحث کرتے رہے ہیں۔ دوسری طرف بیجنگ یورپی پابندیوں اور تجارتی رکاوٹوں کو تحفظ پسندانہ اقدامات قرار دیتا رہا ہے۔
ملاقات میں سامنے آنے والا درآمدات بڑھانے کا عندیہ فی الحال ایک سیاسی و تجارتی آمادگی ہے؛ رپورٹ میں کسی مخصوص خریداری کے حجم، نئی تجارتی ڈیل یا مصنوعات کی حتمی فہرست کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے عملی اثر کا انحصار آئندہ تجارتی معاہدوں، کمپنیوں کے آرڈرز اور یورپی و چینی ریگولیٹری فیصلوں پر ہوگا۔
جرمنی کی برآمدی صنعت کے لیے چینی منڈی طویل عرصے سے اہم رہی ہے، جبکہ چین یورپ کے ساتھ اقتصادی تعلقات میں جرمنی کو مرکزی شراکت دار سمجھتا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی سطح پر مثبت تجارتی اشارے ایسے وقت میں آئے ہیں جب عالمی تجارت میں محصولات، صنعتی پالیسی اور سپلائی چین کی حفاظت سے متعلق فیصلے تیزی سے اہم ہو رہے ہیں۔
اگر بیجنگ جرمن مصنوعات کی درآمد میں عملی اضافہ کرتا ہے تو اس سے بعض جرمن برآمد کنندگان کو فائدہ ہو سکتا ہے، لیکن وسیع تر یورپ-چین تجارتی اختلافات صرف دوطرفہ خریداری سے ختم نہیں ہوں گے۔ آئندہ مذاکرات میں منڈی تک رسائی، مسابقت کے قواعد اور سرمایہ کاری کے حالات بنیادی موضوعات رہنے کا امکان ہے۔
