اسلام آباد میں وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے پاکستان میں سعودی عرب کے نئے سفیر ڈاکٹر راجح البقامی نے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری، صنعتی تعاون اور زراعت کے شعبے میں نئے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق دونوں فریقوں نے اقتصادی روابط کو عملی تجارتی نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے باقاعدہ رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے دیرینہ تعلقات اقتصادی شراکت داری کو مزید وسعت دینے کی گنجائش رکھتے ہیں۔ انہوں نے سعودی عرب کے ویژن 2030 اور پاکستان کی پیداواری و صنعتی صلاحیتوں کا حوالہ دیتے ہوئے پیداوار بڑھانے، مصنوعات کے معیار میں بہتری، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور صنعتی مسابقت میں اضافے کے امکانات اجاگر کیے۔ ان کے مطابق اس نوعیت کا تعاون پاکستانی کاروباروں کو سعودی مارکیٹ کی ضروریات بہتر انداز میں پوری کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
ملاقات میں پاکستان کی برآمدی بنیاد کو وسیع کرنے اور نجی شعبے کے درمیان شراکت داری بڑھانے پر بھی زور دیا گیا۔ سعودی سفیر نے دونوں ملکوں کے تعلقات کی اہمیت کا اعادہ کرتے ہوئے علاقائی رابطہ کاری اور بالخصوص زراعت کے شعبے میں تعاون کے مواقع کی نشاندہی کی۔ سرکاری بیان میں کسی نئے سرمایہ کاری معاہدے کی مالیت، برآمدی ہدف یا مخصوص زرعی منصوبے کا اعلان نہیں کیا گیا، اس لیے گفتگو کو فی الحال پالیسی اور تجارتی تعاون کے امکانات تک محدود سمجھنا چاہیے۔
دونوں فریقوں نے پاکستان اور خلیج تعاون کونسل کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے پر بھی بات کی اور اس کی جلد دستخط و عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیا۔ وزیر تجارت کے مطابق یہ معاہدہ مارکیٹ تک رسائی بڑھانے اور دوطرفہ اقتصادی سرگرمی میں اضافے کا موقع فراہم کرسکتا ہے۔ تاہم پریس ریلیز میں معاہدے پر دستخط کی کوئی حتمی تاریخ نہیں دی گئی۔
سعودی سفیر نے وزارت تجارت کے ساتھ قریبی رابطہ رکھنے اور باہمی فائدے کے نئے شعبوں کی نشاندہی میں تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ دونوں جانب سے طے کیا گیا کہ تجارت، سرمایہ کاری اور زرعی تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے فالو اپ رابطے جاری رکھے جائیں گے۔ یہ ملاقات توانائی کے شعبے میں ایک روز قبل ہونے والے الگ پاک سعودی رابطے سے مختلف ہے اور اس کا مرکزی موضوع وزارت تجارت کے دائرہ کار میں تجارتی، سرمایہ کاری اور زرعی روابط تھا۔
