نئی دہلی: بھارت نے کپاس کی ڈیوٹی فری درآمدات کی مدت مزید دو ماہ بڑھا کر 31 دسمبر 2026 تک کر دی ہے، جس کا مقصد مقامی منڈی میں قیمتوں کا دباؤ کم کرنا اور ٹیکسٹائل ملوں کے لیے خام مال کی لاگت میں کمی لانا ہے۔ رائٹرز کے مطابق حکومت نے اس سے قبل یکم جون سے 31 اکتوبر تک عام 11 فیصد درآمدی ڈیوٹی عارضی طور پر ختم کی تھی۔

بھارت میں نئی فصل کی آمد عموماً اکتوبر میں شروع ہونے کے بعد کپاس کی مقامی قیمتوں پر کمی کا دباؤ آتا ہے، لیکن اس سال قیمتیں نسبتاً مضبوط رہی ہیں۔ اس صورتحال کی ایک وجہ مختلف علاقوں میں مون سون بارشوں کی غیر یکساں کیفیت اور پیداوار کے بارے میں خدشات بتائے گئے ہیں، جس سے ٹیکسٹائل صنعت نے درآمدی رعایت کی مدت بڑھانے کا مطالبہ کیا تھا۔

ڈیوٹی فری کھڑکی میں توسیع سے بھارتی ملوں کو بیرون ملک سے کپاس خریدنے کے لیے مزید وقت ملے گا۔ اس اقدام سے امریکہ، برازیل اور آسٹریلیا جیسے بڑے برآمد کنندگان سے بھارت کو کپاس کی ترسیل بڑھنے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے، تاہم حقیقی درآمدی حجم عالمی قیمتوں، مال برداری کی لاگت، معیار اور مقامی فصل کی دستیابی پر منحصر ہوگا۔

بھارت چین کے بعد دنیا کے بڑے کپاس پیدا کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے اور اس کی ٹیکسٹائل و ملبوسات صنعت خام کپاس کی قیمتوں سے براہ راست متاثر ہوتی ہے۔ مقامی قیمتیں بلند رہنے کی صورت میں درآمدی ڈیوٹی میں رعایت ملوں کے لیے لاگت کا فرق کم کر سکتی ہے، جبکہ زیادہ درآمدات مقامی کسانوں کو ملنے والی قیمتوں پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہیں۔

علاقائی سطح پر بھارت کی درآمدی پالیسی اہم ہے کیونکہ جنوبی ایشیا کی ٹیکسٹائل صنعت عالمی کپاس، دھاگے اور ملبوسات کی منڈیوں سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ بھارتی ملوں کی خریداری میں اضافہ عالمی کپاس کی طلب اور قیمتوں پر اثر ڈال سکتا ہے، جسے پاکستان سمیت دیگر ٹیکسٹائل برآمد کنندہ ممالک کے کاروباری حلقے بھی قریب سے دیکھتے ہیں۔

حکومتی فیصلے نے فی الحال صرف رعایتی مدت بڑھائی ہے؛ اس سے بھارتی فصل کے حتمی حجم یا مقامی قیمتوں کی سمت کا فیصلہ نہیں ہوتا۔ دسمبر تک درآمدی آرڈرز، نئی فصل کی آمد اور عالمی نرخ یہ طے کریں گے کہ ڈیوٹی فری سہولت نے ملوں کی لاگت اور منڈی کی رسد پر کتنا اثر ڈالا۔