اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو اکتوبر 2026 کے لیے مقررہ ماہانہ ٹیکس وصولی ہدف سے اب تک 156 ارب روپے پیچھے ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ادارے نے 1,131 ارب روپے کے مقررہ ہدف کے مقابلے میں 975 ارب روپے جمع کیے ہیں، جبکہ مالی مہینے کے آخری روز مزید وصولیوں کی کوشش جاری ہے۔

ایف بی آر حکام کو توقع ہے کہ ہفتے کے روز مخصوص ٹیکس دفاتر اور بینک برانچیں کھلی رہنے سے تقریباً 40 ارب روپے کی اضافی وصولی ہو سکتی ہے۔ اگر یہ رقم مکمل طور پر جمع ہو جاتی ہے تو اکتوبر کے ہدف کے مقابلے میں حتمی کمی تقریباً 116 ارب روپے رہ سکتی ہے۔ تاہم یہ اندازہ متوقع وصولیوں پر مبنی ہے اور آخری حتمی اعداد و شمار سامنے آنے تک اسے مکمل شدہ نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔

ماہانہ ٹیکس اہداف وفاقی حکومت کی مالی منصوبہ بندی کے لیے اہم ہوتے ہیں کیونکہ انہی محصولات سے جاری اخراجات، ترقیاتی ترجیحات اور مجموعی مالی خسارے کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کسی ایک مہینے کی کمی سالانہ نتیجے کا حتمی تعین نہیں کرتی، لیکن مسلسل شارٹ فال کی صورت میں حکومت کو بعد کے مہینوں میں زیادہ وصولیوں، انتظامی اقدامات یا مالی پالیسی میں دوسری ایڈجسٹمنٹس کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

اکتوبر کے اختتام پر ایف بی آر کے لیے ایک اور اہم سرگرمی انکم ٹیکس گوشواروں کی آخری تاریخ بھی ہے۔ ٹیکس دفاتر اور بینکنگ چینلز کو کھلا رکھنے کا مقصد آخری روز ادائیگیوں اور متعلقہ ٹیکس ذمہ داریوں کو سہولت دینا ہے۔ وصولیوں کا حتمی حجم اس بات پر منحصر ہوگا کہ آخری دن کتنی رقم قومی خزانے میں جمع ہوتی ہے اور کتنی ادائیگیاں بعد میں اکاؤنٹنگ میں شامل ہوتی ہیں۔

موجودہ اعداد و شمار میں 975 ارب روپے کی وصولی کو 1,131 ارب روپے کے ہدف سے موازنہ کیا گیا ہے، اس لیے ابتدائی فرق 156 ارب روپے بنتا ہے۔ حکام کی متوقع 40 ارب روپے اضافی وصولی شامل ہونے کی صورت میں یہ فرق 116 ارب روپے کے قریب رہ سکتا ہے۔ یہ حساب دستیاب رپورٹ شدہ اعداد پر مبنی ہے اور ایف بی آر کی حتمی ماہانہ رپورٹ مختلف ہو سکتی ہے۔

محصولات کی کارکردگی کا وسیع جائزہ صرف ایک ماہ کی مجموعی وصولی سے نہیں بلکہ مختلف ٹیکس مدات، ریفنڈز، درآمدی و مقامی ٹیکس سرگرمی، معاشی نمو اور سالانہ ہدف کے مقابلے میں مجموعی پیش رفت سے کیا جاتا ہے۔ اکتوبر کے حتمی اعداد آنے کے بعد واضح ہوگا کہ ایف بی آر ماہانہ کمی کو آنے والے مہینوں میں کس حکمت عملی سے پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔