بیجنگ: چین کے مرکزی بینک کے گورنر پان گونگ شینگ نے کہا ہے کہ ملک میں قرضوں کی نسبتاً سست رفتار نمو ایک ’نیا معمول‘ بنتی جا رہی ہے، کیونکہ پراپرٹی اور مقامی حکومت سے متعلق شعبوں میں قرض کی طلب تیزی سے کم ہوئی ہے جبکہ نئی اور ابھرتی صنعتیں اس خلا کو فوری طور پر پورا نہیں کر پا رہیں۔ ان کے یہ خیالات بدھ کو شائع ہوئے اور چین کی معیشت میں کریڈٹ کی بدلتی ساخت کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق تازہ اعداد و شمار میں اگست کے دوران نئے قرضوں میں جولائی کی ریکارڈ کمی کے مقابلے میں بحالی دیکھی گئی، تاہم مجموعی حجم تجزیہ کاروں کی توقعات سے کم رہا۔ گھریلو صارفین اور کاروباری اداروں کی جانب سے کمزور قرض طلب نے مجموعی کریڈٹ نمو کو محدود رکھا۔ چین کا پراپرٹی سیکٹر کئی برس سے دباؤ کا شکار ہے اور مقامی حکومتوں کے مالی ڈھانچے میں بھی قرض کے استعمال پر سخت نگرانی اور تنظیم نو کے اقدامات جاری ہیں۔
پان گونگ شینگ کا کہنا ہے کہ پرانے شعبوں میں قرض کی ضرورت کم ہونے کی رفتار نئی صنعتوں میں فنانسنگ کی طلب بڑھنے سے زیادہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ محض قرضوں کی مجموعی شرح نمو کو ماضی کے معیار سے دیکھنا معیشت کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا، کیونکہ کریڈٹ کی ساخت اور اس کے استعمال کے شعبے تبدیل ہو رہے ہیں۔ مرکزی بینک کے لیے چیلنج یہ ہے کہ مالی استحکام برقرار رکھتے ہوئے نئی معیشت، نجی کاروبار اور گھریلو طلب کو مناسب مالی معاونت فراہم کی جائے۔
چینی معیشت میں کمزور پراپرٹی مارکیٹ اور صارفین کے محتاط رویے نے حالیہ برسوں میں پالیسی سازوں پر دباؤ بڑھایا ہے۔ اگست میں قرضوں کی بحالی ایک مثبت تبدیلی تھی، مگر توقعات سے کم اعداد و شمار اس بات کی علامت ہیں کہ کاروبار اور گھرانے بڑے مالی وعدوں کے معاملے میں اب بھی محتاط ہیں۔ مرکزی بینک گورنر کا ’نیا معمول‘ والا بیان اس امکان کی نشاندہی کرتا ہے کہ چین آئندہ عرصے میں تیز قرض توسیع کے بجائے کریڈٹ کے معیار، سمت اور پیداواری استعمال پر زیادہ زور دے سکتا ہے۔
