چین میں اخراج و داخلہ انتظام سے متعلق نئے قواعد 15 ستمبر 2026 سے نافذ ہو گئے ہیں، جن میں قومی سلامتی، صنعتی تحفظ اور حساس ٹیکنالوجی سے جڑے بعض معاملات میں بیرونِ ملک سفر محدود کرنے کے اختیارات واضح کیے گئے ہیں۔ دنیا نیوز نے رائٹرز کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ایسے چینی شہری جن کے بارے میں حکام یہ سمجھیں کہ ان کا معاملہ برآمدی کنٹرول یا ٹیکنالوجی کی درآمد و برآمد کے قواعد کی خلاف ورزی کے ذریعے صنعتی یا تکنیکی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے، مخصوص قانونی حالات میں ملک چھوڑنے سے روکے جا سکتے ہیں۔

چینی اسٹیٹ کونسل نے یہ ضابطہ جولائی میں جاری کیا تھا اور سرکاری تفصیل کے مطابق اس کا مقصد اخراج و داخلہ انتظام کو معیاری بنانا، مسافروں کے قانونی حقوق کا تحفظ اور قومی خودمختاری، سلامتی اور ترقیاتی مفادات کی حفاظت ہے۔ قواعد میں بیرونِ ملک سلامتی کے خطرات کے بارے میں سرکاری انتباہات، سفری دستاویزات کے لیے درست معلومات فراہم کرنے کی ذمہ داری، سرحدی معائنہ اور مختلف پابندیوں کے طریقہ کار شامل ہیں۔ نئی دفعات اسی اعلان کے مطابق 15 ستمبر سے مؤثر ہوئی ہیں۔

رائٹرز کے مطابق قواعد میں بعض ایسے چینی شہریوں کے لیے چھ ماہ سے تین سال تک کی اخراج پابندی کی گنجائش بھی موجود ہے جو بیرونِ ملک ایسے غیر قانونی یا مجرمانہ اقدامات کے بعد چین واپس آئیں جنہیں قومی سلامتی یا قومی مفادات کے لیے نقصان دہ قرار دیا جائے۔ اسی طرح ویزا درخواست میں غلط بیانی کرنے والے بعض غیر ملکی شہریوں کو ایک سے پانچ سال تک چین میں داخلے سے روکا جا سکتا ہے۔ ان پابندیوں کا اطلاق ہر شہری یا مسافر پر خودکار طور پر نہیں ہوگا بلکہ متعلقہ قانونی بنیاد، سرکاری فیصلہ اور مخصوص حالات درکار ہوں گے۔

چین میں حساس معلومات تک رسائی رکھنے والے بعض اعلیٰ سرکاری اہلکاروں اور سرکاری اداروں کے ملازمین کے غیر ملکی سفر پر پہلے سے سخت نگرانی موجود رہی ہے۔ نئے ضابطے کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ ٹیکنالوجی اور صنعتی سلامتی سے متعلق زبان کو باضابطہ قانونی فریم ورک میں شامل کیا گیا ہے۔ چینی حکومت کا مؤقف ہے کہ اس سے انتظامی اختیارات کی قانونی بنیاد اور مسافروں کے حقوق سے متعلق طریقہ کار زیادہ واضح ہوگا۔

تائیوان کے حکام نے نئی دفعات، خصوصاً برآمدی کنٹرول اور ٹیکنالوجی مینجمنٹ سے متعلق شقوں پر تشویش ظاہر کی ہے اور اپنے ٹیکنالوجی شعبے سے وابستہ شہریوں کو چین کے سفر میں احتیاط کی ہدایت دی ہے۔ چین تائیوان کو اپنا حصہ سمجھتا ہے اور ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ نئے قواعد قانونی تحفظ کو بہتر بناتے ہیں۔ یہ دونوں جانب کے سرکاری مؤقف ہیں۔ نئے ضابطے کے عملی اثرات اس بات سے واضح ہوں گے کہ چینی امیگریشن اور سکیورٹی ادارے مخصوص مقدمات میں ان اختیارات کو کس طرح استعمال کرتے ہیں اور متاثرہ افراد کے لیے نظرثانی یا قانونی چارہ جوئی کے طریقے کیسے نافذ ہوتے ہیں۔