سعودی عرب نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد سخت ردعمل کا اعلان کیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون، رائٹرز اور سعودی گزٹ کی رپورٹس کے مطابق سعودی قیادت والے اتحاد نے کہا کہ 14 ستمبر کو خمیس مشیط، ابہا اور طائف کو نشانہ بنانے والے حملوں میں 13 شہری زخمی ہوئے۔ اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق زخمیوں کی حالت معمولی سے درمیانی نوعیت کی بتائی گئی، جبکہ سات رہائشی مکانات اور دو گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔

حوثیوں نے خمیس مشیط میں واقع کنگ خالد ایئربیس پر بڑے پیمانے پر حملے کا دعویٰ کیا اور کہا کہ اس میں درجنوں بیلسٹک میزائل اور ڈرون استعمال کیے گئے۔ اس دعوے کی تمام تفصیلات کی آزادانہ تصدیق فوری طور پر ممکن نہیں ہوئی۔ سعودی اتحاد نے تاہم خمیس مشیط، ابہا اور طائف میں میزائل اور ڈرون حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ شہری علاقوں اور بنیادی ڈھانچے کو خطرے میں ڈالنے والے اقدامات کا جواب دیا جائے گا۔

سعودی اتحاد نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ مملکت کی خودمختاری، شہری آبادی اور شہری تنصیبات کے تحفظ کے لیے "تمام ضروری آپریشنل اقدامات" کرے گا۔ سعودی مؤقف کے مطابق یہ اقدامات اقوام متحدہ کے منشور کے تحت حقِ دفاع اور بین الاقوامی انسانی قانون کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے کیے جائیں گے۔ دوسری جانب حوثی سیاسی عہدیداروں نے کہا ہے کہ جب تک سعودی کارروائیاں جاری رہیں گی، ان کا ردعمل بھی جاری اور مزید شدید ہو سکتا ہے۔ یہ بیان فریقِ تنازع کا مؤقف ہے اور اسے کسی مستقبل کے واقعے کی تصدیق نہیں سمجھا جا سکتا۔

تازہ حملے ایسے وقت ہوئے ہیں جب یمن میں سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز اور حوثیوں کے درمیان لڑائی دوبارہ شدت اختیار کر چکی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق حوثیوں نے حالیہ ہفتوں میں بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں اور اہم بحری راستوں پر اپنی سرگرمیاں بڑھائی ہیں، جبکہ سعودی تیل کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنانے کے دعوے سامنے آئے ہیں۔ اس کشیدگی کے اثرات خطے کی سکیورٹی کے ساتھ عالمی توانائی منڈی پر بھی پڑ رہے ہیں کیونکہ سعودی عرب دنیا کے بڑے خام تیل برآمد کنندگان میں شامل ہے۔

منگل کی صبح سعودی سول ڈیفنس نے متعدد شہروں میں فضائی حملے کے انتباہ جاری کیے، جنہیں بعد میں خطرہ کم ہونے پر واپس لے لیا گیا۔ رائٹرز کے مطابق فوری خطرہ ختم ہونے کے باوجود علاقائی کشیدگی برقرار ہے اور بحیرۂ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز سے متعلق سکیورٹی خدشات عالمی شپنگ اور تیل کی رسد پر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ تازہ واقعے میں مصدقہ پیش رفت 13 شہریوں کے زخمی ہونے اور سعودی اتحاد کی جانب سے ردعمل کی وارننگ ہے؛ آئندہ فوجی کارروائیوں اور ان کے نتائج کے بارے میں دعوؤں کی الگ تصدیق ضروری ہوگی۔