اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے پنجاب بار کونسل اور اسلام آباد بار کونسل کے نمائندوں کے ساتھ قومی معیاری ای فائلنگ نظام پر مشاورتی اجلاس کیا ہے۔ اجلاس میں طے پایا کہ تمام ہائی کورٹس کے رجسٹرار اور ملک کی بار کونسلوں کے نامزد ارکان مشترکہ طور پر ای فائلنگ کے یکساں سانچوں کا جائزہ لے کر انہیں حتمی شکل دیں گے۔
یہ مشاورت سپریم کورٹ، ہائی کورٹس اور ضلعی عدالتوں کے لیے ایک متحد اور معیاری الیکٹرانک فائلنگ فریم ورک تیار کرنے کے جاری عمل کا حصہ ہے۔ شرکا کو مجوزہ نیشنل اسٹینڈرڈائزڈ ای فائلنگ سسٹم کے بارے میں بتایا گیا، جسے عدالتی کارروائی کے قانونی اور ضابطہ جاتی تقاضوں کے مطابق منظم، ذہین اور قواعد کی پابندی کرنے والا پلیٹ فارم بنانے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔
سرکاری بیان کے مطابق منصوبے کا مقصد عدالتی عمل میں ٹیکنالوجی کے استعمال سے کارکردگی اور شفافیت بڑھانا، طریقۂ کار کو زیادہ قابلِ پیش گوئی بنانا اور وکلا و سائلین کے لیے انصاف تک رسائی آسان کرنا ہے۔ یہ بیان نظام کے مطلوبہ مقاصد بتاتا ہے؛ ابھی ایسے عملی اعداد دستیاب نہیں جن سے مقدمات کے اندراج، سماعت یا فیصلے کی مدت میں کسی حقیقی کمی کی پیمائش کی جا سکے، کیونکہ نظام حتمی منظوری اور ملک گیر نفاذ کے مرحلے تک نہیں پہنچا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ بار اس مجوزہ نظام کی بنیادی صارف ہے، اس لیے معیاری templates کی تیاری اور مختلف عدالتی سطحوں پر کامیاب نفاذ میں وکلا کی عملی رائے ضروری ہوگی۔ پنجاب اور اسلام آباد بار کونسل کے نمائندوں نے ڈیجیٹل دستاویز جمع کرانے، الیکٹرانک کیس ریکارڈ، مقدمات کی آن لائن نگرانی، تکنیکی معاونت و تربیت، ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر اور ڈیٹا سکیورٹی سے متعلق تجاویز پیش کیں۔
مشترکہ کمیٹی میں ہر ہائی کورٹ کا رجسٹرار شامل ہوگا۔ اس کے علاوہ ہر صوبائی بار کونسل دو ارکان اور اسلام آباد بار کونسل بھی دو نمائندے نامزد کرے گی۔ یہ کمیٹی معیاری ای فائلنگ سانچوں کو جانچے گی اور ان کی حتمی صورت تیار کرے گی۔ سانچے مکمل ہونے کے بعد انہیں نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے سامنے غور اور پالیسی ہدایات کے لیے رکھا جائے گا۔
اس ترتیب کا مطلب یہ نہیں کہ مجوزہ ای فائلنگ نظام فوری طور پر لازمی یا فعال ہوگیا ہے۔ موجودہ فیصلے نے پہلے تکنیکی و ضابطہ جاتی دستاویزات کی مشترکہ جانچ اور پھر NJPMC کی پالیسی سطح کی منظوری کا مرحلہ مقرر کیا ہے۔ کسی عدالت میں کاغذی فائلنگ ختم کرنے، ملک گیر launch date، سافٹ ویئر فراہم کنندہ، منصوبے کی لاگت یا ڈیجیٹل دستخط اور فیس ادائیگی کے حتمی قواعد کا اعلان موجودہ بیان میں نہیں کیا گیا۔
یکساں templates کا مقصد مختلف عدالتوں میں بنیادی معلومات، دستاویزات اور procedural fields کو ایک منظم شکل دینا ہو سکتا ہے، مگر ان کا قانونی اطلاق متعلقہ عدالتی قواعد اور NJPMC کی حتمی ہدایات سے طے ہوگا۔ اسی طرح متحدہ electronic case record کا تصور اس وقت عملی ہوگا جب عدالتوں کے موجودہ کیس مینجمنٹ نظام، شناختی تصدیق، دستاویزات کی حفاظت اور رسائی کے اختیارات میں باہمی مطابقت قائم ہو۔ ان تکنیکی مراحل کی تفصیل ابھی زیرِ تیاری ہے۔
ڈیٹا سکیورٹی کو مشاورت میں الگ موضوع کے طور پر اٹھایا گیا۔ عدالتی ریکارڈ میں ذاتی، تجارتی اور بعض اوقات حساس معلومات شامل ہوتی ہیں، اس لیے رسائی کی سطح، محفوظ ذخیرہ، تبدیلیوں کا audit trail، backup اور سائبر واقعے کے ردعمل کے قواعد حتمی فریم ورک کے اہم حصے ہوں گے۔ اجلاس نے ان موضوعات پر عملی تجاویز تو لیں، لیکن کوئی مخصوص security standard یا vendor solution منظور کرنے کی اطلاع نہیں دی۔
تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ پنجاب و اسلام آباد بار کے ساتھ مشاورت ہوئی اور تمام ہائی کورٹس کے رجسٹراروں اور بار نمائندوں پر مشتمل کمیٹی کو معیاری سانچے حتمی کرنے کی ذمہ داری دی گئی۔ اگلا فیصلہ کن مرحلہ کمیٹی کا مکمل مسودہ اور NJPMC کی پالیسی ہدایات ہوں گی؛ اسی کے بعد نفاذ کی مدت، عدالتی دائرہ اور صارفین پر عائد عملی تقاضے واضح ہوں گے۔




