گلگت: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ نے گلگت بلتستان میں انٹرنیٹ اور مواصلاتی رابطوں کی بہتری، آفات کی نگرانی اور تیل و ایل پی جی ذخیرہ بڑھانے کے لیے متعلقہ اداروں کو اقدامات کی ہدایت دی ہے۔ کمیٹی کا اجلاس سینیٹر محمود الحسن کی صدارت میں گلگت بلتستان اسمبلی میں ہوا، جہاں وفاقی ریگولیٹرز، آفات سے نمٹنے والے اداروں اور علاقائی حکومت نے اپنی بریفنگز پیش کیں۔

وزیرِ اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے کمیٹی کو بتایا کہ کمزور موبائل اور انٹرنیٹ رابطہ صرف سیاحت کو متاثر نہیں کرتا بلکہ ہنگامی حالات میں امدادی اور ریسکیو کارروائیوں میں بھی رکاوٹ بنتا ہے۔ ان کے مطابق پہاڑی اور دشوار گزار علاقوں میں فائبر آپٹک رابطہ محدود عملی گنجائش رکھتا ہے، اس لیے سیٹلائٹ کنیکٹیویٹی کو متبادل اور تکمیلی نظام کے طور پر استعمال کرنا ضروری ہے۔

وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ خطے میں تقریباً 7 ہزار گلیشیئرز کی نگرانی اور قدرتی خطرات کی بروقت اطلاع کے لیے قابلِ اعتماد سیٹلائٹ رابطہ اہم ہے۔ یہ تعداد اور ضرورت ان کی کمیٹی بریفنگ کا حصہ ہیں؛ اجلاس میں کسی نئے سیٹلائٹ نظام کی خریداری، بجٹ یا تکمیل کی تاریخ منظور کیے جانے کی اطلاع نہیں دی گئی۔ انہوں نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی سے ریگولیٹر کی حیثیت سے فعال کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اسپیشل کمیونیکیشنز آرگنائزیشن بنیادی طور پر سروس فراہم کنندہ ہے۔

پی ٹی اے کے چیئرمین ریٹائرڈ جنرل حفیظ الرحمٰن نے بتایا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی ہدایات کے تحت گلگت بلتستان میں انٹرنیٹ خدمات بہتر بنانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق رابطے میں رکاوٹ بننے والے مسائل اور عملی چیلنجز کا جائزہ لے کر ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ کمیٹی چیئرمین نے اعلان کیا کہ تمام متعلقہ فریقوں اور نجی موبائل نیٹ ورک کمپنیوں کو بلا کر گلگت میں ایک اور اجلاس منعقد کیا جائے گا۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے سینئر افسران نے کمیٹی کو ابتدائی انتباہی نظام، امدادی سہولتوں، دستیاب فنڈز اور آفات سے نمٹنے کی تیاری پر بریفنگ دی۔ پانچ برس کے دوران سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، برفانی تودوں اور دوسرے قدرتی واقعات سے ہونے والے نقصانات، متاثرین کو دیے گئے معاوضے اور ریسکیو کارروائیوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے گلگت بلتستان میں این ڈی ایم اے کے کردار اور ادارہ جاتی رابطے کو مزید مضبوط کرنے پر زور دیا۔

اجلاس میں توانائی رسد بھی زیرِ بحث آئی۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین نبیل اعوان نے بتایا کہ خطے میں موجود ذخیرہ گاہیں تقریباً 20 سے 30 دن کی ضرورت پوری کرنے کے قابل تیل ذخیرہ رکھنے کی گنجائش دیتی ہیں۔ انہوں نے بلتستان ڈویژن کی تیل ذخیرہ سہولتوں کی تفصیل بھی پیش کی۔ یہ موجودہ گنجائش کا سرکاری بیان ہے، مستقل رسد کی ضمانت نہیں؛ سڑکیں بند ہونے یا غیر معمولی طلب کی صورت میں عملی دستیابی متاثر ہو سکتی ہے۔

سینیٹر عامر ولی الدین چشتی نے اوگرا کو تیل اور ایل پی جی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے، متعلقہ مسائل وفاقی وزارتِ پیٹرولیم کے سامنے مؤثر طور پر اٹھانے اور دیرپا حل کے لیے ضروری اقدامات کی ہدایت دی۔ دستیاب رپورٹ میں اضافی ذخیرہ گاہوں کی تعداد، مقام، لاگت یا تکمیل کی مدت طے ہونے کی تفصیل نہیں دی گئی۔

اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی کے چیئرمین اظفر منظور نے ویڈیو لنک کے ذریعے بتایا کہ ادارہ پہلے گلگت بلتستان میں خصوصی ٹیکنالوجی زون قائم کرنے کے لیے اقدامات کر چکا ہے اور اس عمل میں اپنا کردار جاری رکھنے کو تیار ہے۔ کمیٹی چیئرمین نے خطے کی ٹیکس فری حیثیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے زون کے قیام میں تکنیکی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے، تاہم کسی نئی جگہ یا سرمایہ کاری کی حتمی منظوری کی اطلاع نہیں دی گئی۔

اجلاس کا تصدیق شدہ نتیجہ فوری مکمل شدہ انفرااسٹرکچر نہیں بلکہ متعدد اداروں کو جائزہ، رابطہ اور بہتری کے اقدامات کی ہدایات ہیں۔ اگلی پیش رفت پی ٹی اے اور نیٹ ورک کمپنیوں کے مشاورتی اجلاس، سیٹلائٹ کنیکٹیویٹی کے قابلِ عمل منصوبے، اوگرا کی ذخیرہ صلاحیت میں اضافے کی تجویز اور آفات کی نگرانی کے ادارہ جاتی نظام سے سامنے آئے گی۔