اسلام آباد: پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (پی وارا) کے عبوری ضابطے کے تحت ملک میں پہلے سے کام کرنے والے ورچوئل اثاثہ سروس فراہم کنندگان کے لیے نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) کی درخواست جمع کرانے کی قانونی مہلت 5 ستمبر 2026 کو ختم ہو رہی ہے۔ اتھارٹی کی موجودہ سرکاری ہدایات کے مطابق مقررہ تعریف میں آنے والا آپریٹر درخواست جمع نہ کرائے تو اسے اپنی خدمات روکنا ہوں گی۔
ورچوئل ایسٹس ایکٹ 2026 کے سیکشن 70 کے تحت وہ کاروبار یا افراد جو 5 مارچ 2026 یا اس سے پہلے ورچوئل اثاثہ خدمات فراہم کر رہے تھے، ”عبوری اشخاص“ کے زمرے میں آتے ہیں۔ ایسے فراہم کنندگان کو آج تک این او سی درخواست دینا لازم ہے۔ مقررہ تاریخ کے بعد درخواست دیے بغیر کام جاری رکھنا قانون کے تحت جرم بتایا گیا ہے۔ یہ شرط ہر نئے درخواست گزار پر اسی شکل میں لاگو نہیں؛ بعد میں کاروبار شروع کرنے والے اداروں کے لیے الگ سینڈباکس یا این او سی راستہ موجود ہے۔
درخواست جمع کرانا مکمل لائسنس ملنے کے برابر نہیں۔ پی وارا کا طریقہ دو مراحل پر مشتمل ہے: پہلے کاروباری منصوبہ، کمپنی اور ملکیتی دستاویزات، انتظامی معلومات اور ضابطہ جاتی تفصیل کے ساتھ این او سی کے لیے درخواست دی جاتی ہے؛ ابتدائی اجازت کے بعد پاکستان میں مطلوبہ قانونی و ادارہ جاتی تشکیل مکمل کرکے سرگرمی کے مطابق مکمل لائسنس حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اتھارٹی ہر درخواست کی جانچ کے بعد فیصلہ کرے گی۔
پاکستان ورچوئل ایسٹ سروسز ریگولیشنز 2026 اور سرگرمی سے مخصوص ضوابط نے دس لائسنس زمروں کا تعین کیا ہے۔ ان میں ایکسچینج، تحویل یا کسٹڈی، بروکر ڈیلر، مشاورت، قرض دینا و لینا، ڈیریویٹوز، اثاثہ انتظام، منتقلی و تصفیہ، اجرا اور کان کنی سے متعلق خدمات شامل ہیں۔ ہر سرگرمی کے لیے طرزِ عمل، سرمایہ و احتیاط، ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی اور منی لانڈرنگ و دہشت گردی کی مالی معاونت سے بچاؤ کے تقاضے الگ ہو سکتے ہیں۔
پی وارا نے لائسنسنگ پورٹل کھول دیا ہے، جہاں اہل آپریٹر این او سی، مکمل لائسنس یا ریگولیٹری سینڈباکس کے متعلق درخواست کا عمل شروع کر سکتے ہیں۔ عبوری آپریٹر کے لیے آج کی لازمی شرط درخواست کا بروقت اندراج ہے؛ اس کے بعد دستاویزات کی تکمیل، ریگولیٹر کے سوالات، ابتدائی منظوری، کمپنی کی مقامی تشکیل اور مکمل لائسنسنگ کے مراحل باقی رہ سکتے ہیں۔
ضابطہ صارف اثاثوں کی حفاظت کے لیے بھی ذمہ داریاں مقرر کرتا ہے۔ پی وارا کے مطابق لائسنس یافتہ فراہم کنندہ کو صارفین کی ہولڈنگز اپنے اثاثوں سے الگ رکھنا ہوگا اور تحریری اجازت کے بغیر انہیں قرض، ضمانت یا کسی دوسرے استعمال میں نہیں دیا جا سکے گا۔ پلیٹ فارم کی ناکامی کی صورت میں بھی صارف اثاثوں کی الگ حیثیت برقرار رکھنے کا مقصد رکھا گیا ہے۔ ان اصولوں کا عملی نفاذ لائسنس، نگرانی، آڈٹ اور خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی سے ہوگا۔
اسٹیٹ بینک کے سرکلر نمبر 10 برائے 2026 نے ریگولیٹڈ مالیاتی اداروں کو پی وارا سے لائسنس یافتہ فراہم کنندگان کے لیے اکاؤنٹس، بشمول الگ کلائنٹ منی اکاؤنٹس، کھولنے کی اجازت دی ہے۔ یہ سہولت خودکار نہیں؛ بینکوں کو صارف شناخت، خطرے کی جانچ، منی لانڈرنگ سے بچاؤ اور دیگر ضابطہ جاتی شرائط پوری کرنا ہوں گی۔ این او سی کی محض درخواست بینک اکاؤنٹ یا مکمل کاروباری اجازت کی ضمانت نہیں۔
اتھارٹی مارچ 2026 میں پارلیمانی قانون کے تحت مستقل قانونی ادارے کے طور پر قائم ہوئی، جبکہ حتمی ضابطے عوامی مشاورت کے بعد جاری کیے گئے۔ مشاورتی مرحلہ 11 جون سے 2 جولائی تک جاری رہا اور اس میں متعلقہ فریقوں کے لیے ویبینار بھی شامل تھا۔ حکام نے نئے نظام کو غیر رسمی مارکیٹ سے باقاعدہ نگرانی کی طرف منتقلی قرار دیا ہے۔
آج کی ڈیڈ لائن کے بعد اہم سوال یہ ہوگا کہ کتنے موجودہ فراہم کنندگان نے بروقت درخواست دی، کتنے اداروں کو عبوری طور پر کام جاری رکھنے کی اجازت ملتی ہے اور خلاف ورزی کی صورت میں پی وارا کیا نفاذی کارروائی کرتا ہے۔ اتھارٹی نے ابھی موصولہ درخواستوں کی مجموعی تعداد یا کسی مہلت میں توسیع کا اعلان نہیں کیا۔
فی الحال سرکاری طور پر تصدیق شدہ پوزیشن یہی ہے کہ 5 مارچ یا اس سے پہلے کام کرنے والے عبوری آپریٹرز کو 5 ستمبر 2026 تک این او سی درخواست جمع کرانی ہے یا خدمات روکنی ہیں۔ صارفین کے لیے بھی کسی پلیٹ فارم کا صرف درخواست گزار، این او سی یافتہ یا مکمل لائسنس یافتہ ہونا الگ حیثیتیں ہیں، جن کی تصدیق پی وارا کے سرکاری ریکارڈ سے کی جانی چاہیے۔




