گلگت: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ نے گلگت بلتستان میں تیز رفتار انٹرنیٹ، موبائل کوریج اور دور دراز علاقوں کے لیے سیٹلائٹ رابطہ بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ سینیٹر محمود الحسن کی زیر صدارت 4 ستمبر 2026 کو گلگت بلتستان اسمبلی میں ہونے والے اجلاس میں صوبائی حکومت، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی، اسپیشل کمیونیکیشنز آرگنائزیشن اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے رابطہ سہولتوں، سیاحت اور آفات سے نمٹنے کی تیاری پر بریفنگ دی۔

گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ امجد حسین نے کمیٹی کو بتایا کہ کمزور موبائل سگنل اور محدود انٹرنیٹ رسائی سیاحوں، مقامی آبادی اور ہنگامی امدادی اداروں کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہے۔ ان کے مطابق پہاڑی علاقوں میں حادثے، سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ یا دیگر ہنگامی حالات کے دوران بروقت رابطہ نہ ہونے سے ریسکیو کارروائی متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی سے زیادہ فعال کردار ادا کرنے اور خدمات فراہم کرنے والے اداروں کے ساتھ قابل عمل منصوبہ تیار کرنے کا مطالبہ کیا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ خطے کے ہزاروں گلیشیئرز اور حساس جغرافیائی مقامات کی نگرانی کے لیے سیٹلائٹ رابطہ اہم ہو سکتا ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ شہری مراکز میں فائبر آپٹک نیٹ ورک پھیلانا نسبتاً ممکن ہے، لیکن بلند پہاڑی وادیوں اور منتشر آبادیوں تک زمینی کیبل پہنچانا مہنگا اور تکنیکی طور پر مشکل ہے۔ اس تناظر میں سیٹلائٹ، مائیکروویو اور دوسرے متبادل مواصلاتی ذرائع کو مجموعی حل کا حصہ بنانے کی تجویز سامنے آئی۔ یہ تجاویز زیر غور ہیں؛ کسی مخصوص سیٹلائٹ منصوبے، بجٹ یا تکمیل کی تاریخ کی حتمی منظوری کا اعلان نہیں ہوا۔

چیئرمین پی ٹی اے میجر جنرل ریٹائرڈ حفیظ الرحمن نے کمیٹی کو بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایات کے تحت خطے میں ٹیلی کمیونیکیشن سہولت بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اسپیشل کمیونیکیشنز آرگنائزیشن گلگت بلتستان میں بنیادی خدمات فراہم کرنے والے اہم اداروں میں شامل ہے، جبکہ نجی موبائل کمپنیوں کی کوریج بھی مختلف علاقوں میں موجود ہے۔ کمیٹی نے کہا کہ سروس فراہم کرنے والوں، ریگولیٹر، صوبائی حکومت اور وفاقی اداروں کے درمیان مشترکہ منصوبہ بندی کے بغیر کوریج کے خلا دور کرنا مشکل ہوگا۔

کمیٹی نے تمام متعلقہ فریقوں اور نجی نیٹ ورک آپریٹرز کے ساتھ ایک اور اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ، نئی سائٹس، فائبر رابطے، سپیکٹرم، بجلی کی دستیابی اور دور دراز علاقوں کے متبادل حل کا جائزہ لیا جا سکے۔ اس فیصلے کو فوری ملک گیر یا صوبہ گیر نفاذ کا حکم نہیں سمجھا جا سکتا؛ اگلا مرحلہ تکنیکی تجاویز، مالی ضروریات اور ادارہ جاتی ذمہ داریوں کی تفصیل طے کرنا ہے۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے اجلاس میں گزشتہ پانچ برس کے دوران گلگت بلتستان میں آفات سے ہونے والے نقصانات اور تیاریوں کے بارے میں بریفنگ دی۔ رابطہ نظام کو ابتدائی انتباہ، متاثرہ مقام کی نشاندہی، ریسکیو ٹیموں کی نقل و حرکت اور شہریوں تک ہدایات پہنچانے کے لیے بنیادی سہولت قرار دیا گیا۔ سیاحتی راستوں پر قابل اعتماد موبائل سروس سے سیاحوں کی رہنمائی، موسم کی اطلاع اور حادثے کی صورت میں مدد طلب کرنا بھی آسان ہو سکتا ہے۔

اجلاس میں پٹرولیم مصنوعات اور ایل پی جی کے ذخیرے کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ اوگرا کے چیئرمین نبیل اعوان نے بتایا کہ خطے میں موجود ذخیرہ عموماً 20 سے 30 دن کی ضرورت پوری کر سکتا ہے، جس پر کمیٹی نے سردیوں اور راستوں کی بندش کے خطرے کے پیش نظر ذخیرہ گنجائش بڑھانے کا معاملہ متعلقہ وزارت کے ساتھ اٹھانے کی ہدایت کی۔ اس کے علاوہ خصوصی ٹیکنالوجی زون کے منصوبے پر پیش رفت جاری رکھنے کی آمادگی ظاہر کی گئی۔

اجلاس کا تصدیق شدہ نتیجہ رابطہ سہولتوں کی کمزوری کو سیاحت اور آفات کے ردعمل کا اہم مسئلہ تسلیم کرنا اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مزید مشترکہ مشاورت طے کرنا ہے۔ نئی ٹاور سائٹس، سیٹلائٹ سروس، سرمایہ کاری اور نفاذ کی مدت کا حتمی تعین آئندہ تکنیکی و مالی فیصلوں کے بعد ہوگا۔