صدر آصف علی زرداری کی ہدایت پر قائم ایک انکوائری کمیٹی نے اسلامی تعاون تنظیم کی سائنسی و تکنیکی تعاون کی مستقل کمیٹی، کامسٹیک، کے کوآرڈینیٹر جنرل ڈاکٹر اقبال چودھری کے خلاف متعدد انتظامی اور مالی الزامات پر نتائج مرتب کیے ہیں۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق اخبار نے انکوائری رپورٹ دیکھی، جس میں بدانتظامی، انتظامی احکامات کی عدم تعمیل اور عدالتی ہدایات کی مبینہ خلاف ورزی جیسے نکات شامل ہیں۔ یہ انکوائری کے نتائج ہیں، کسی عدالت کا حتمی فیصلہ یا فوجداری سزا نہیں۔
کمیٹی کی سربراہی ڈاکٹر عاصم حسین نے کی، جبکہ پاکستان کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ، وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی اور مالیاتی شعبے کے افسران بھی اس میں شامل تھے۔ رپورٹ کے مطابق کامسٹیک کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس چار سال تک نہ بلانے، فیصلے انفرادی طور پر کرنے اور منظوری کے بغیر اخراجات کے الزامات زیرِ تحقیق آئے۔ کمیٹی نے بعض اخراجات کو غیر مجاز قرار دیا اور معاملہ مزید تفتیش کے لیے انسدادِ بدعنوانی اداروں کو بھیجنے کی سفارش کی۔
انکوائری میں چھ برس کے دوران ستر سے زائد غیر ملکی دوروں، بیک وقت دو عہدے رکھنے، ملازمین کے استعفوں و برطرفیوں، بھرتیوں میں اقرباپروری اور شکایات کا جواب نہ دینے سے متعلق الزامات بھی درج کیے گئے۔ ان تمام نکات کو رپورٹ کے دعووں کے طور پر بیان کیا جا رہا ہے۔ سفارشات مجاز اتھارٹی کو بھیج دی گئی ہیں، مگر رپورٹ میں کسی حتمی تادیبی حکم، عہدے سے برطرفی یا احتسابی ادارے کی باقاعدہ مقدمہ کارروائی کی تصدیق نہیں تھی۔
ڈاکٹر اقبال چودھری نے ڈان سے گفتگو میں کہا کہ انہیں ایسی رپورٹ کا علم نہیں اور انکوائری کا طریقۂ کار قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں تھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ نہ شکایت اور نہ شوکاز نوٹس ان کے ساتھ شیئر کیا گیا، اس لیے کارروائی یک طرفہ ہے۔ انہوں نے کامسٹیک کی او آئی سی حیثیت اور سفارتی استثنا کا حوالہ دیتے ہوئے صدارتی اختیار کی تعبیر سے بھی اختلاف کیا اور کہا کہ رپورٹ کو عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔
اردو ہیڈ لائنز نے حساس الزامات کے باعث انکوائری کے نتائج اور متاثرہ عہدیدار کا جواب دونوں واضح طور پر الگ رکھا ہے۔ کسی الزام کو ثابت شدہ جرم نہیں کہا گیا اور نہ ہی سفارش کو نافذ شدہ سزا کے طور پر پیش کیا گیا۔ مجاز اتھارٹی کا فیصلہ، انسدادِ بدعنوانی ادارے کی ممکنہ کارروائی یا عدالتی جانچ سامنے آنے پر خبر کی قانونی حیثیت سے متعلق حصہ اپ ڈیٹ ہوگا۔




