اسلام آباد: بائیس بین الاقوامی کرکٹرز، جن میں اکیس سابق کپتان شامل ہیں، نے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر سابق وزیراعظم عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کے بارے میں سپریم کورٹ کی حالیہ ہدایات پر عمل درآمد کی اپیل کی ہے۔ ڈان کی 23 اگست کی رپورٹ کے مطابق یہ خط اتوار کو ای ایس پی این کرک انفو نے رپورٹ کیا۔ دستخط کرنے والوں نے واضح کیا کہ وہ پاکستان کے داخلی قانونی معاملات کا فیصلہ کرنے نہیں بلکہ سابق ساتھی اور حریف کرکٹر کی صحت کے بارے میں تشویش ظاہر کرنے کے لیے لکھ رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ نے 18 اگست کو حکومت کو ہدایت دی تھی کہ عمران خان کو دو دن کے اندر اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے، جہاں کثیر شعبہ جاتی میڈیکل بورڈ معائنہ اور علاج کرے۔ بعد میں عمران خان کو سرکاری پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز لے جایا گیا اور چند گھنٹوں بعد اڈیالہ جیل واپس منتقل کر دیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ تجویز کردہ سی ٹی انجیوگرافی بھی نہ ہو سکی، جبکہ متعلقہ اداروں کے اپنے الگ مؤقف اور عدالتی کارروائی موجود ہے۔
سابق کرکٹرز نے تین بنیادی مطالبات پیش کیے: عدالتی ہدایت کے مطابق میڈیکل بورڈ کو مکمل اور آزاد معائنہ کرنے دیا جائے، ہفتہ وار خاندانی ملاقاتیں بلا رکاوٹ جاری رہیں، اور طبی جائزے کے بعد سفارش کردہ علاج میں تاخیر نہ کی جائے۔ خط میں عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی سے متعلق رپورٹ شدہ مسئلے کا خصوصی ذکر کیا گیا۔ یہ مطالبات خط کے دستخط کنندگان کا مؤقف ہیں؛ ان سے کسی طبی تشخیص یا حکومتی خلاف ورزی کا حتمی قانونی فیصلہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
دستخط کرنے والوں میں ایلن بارڈر، سنیل گاوسکر، کپیل دیو، کلائیو لائیڈ، ارجنا راناٹنگا، اسٹیو وا، الیسٹر کک، اینڈریو اسٹراس، ایڈم گلکرسٹ اور دوسرے سابق کپتان و کھلاڑی شامل ہیں۔ انہوں نے اپنے خط کو کھیل کے میدان سے بننے والے تعلق اور انسانی تشویش سے جوڑا۔ چند سابق کرکٹرز فروری میں بھی عمران خان کے علاج، جیل حالات اور قانونی رسائی پر تشویش ظاہر کر چکے تھے۔
عمران خان اگست 2023 سے قید ہیں اور متعدد مقدمات میں سزا پا چکے ہیں، جنہیں وہ سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیتے ہیں۔ ان کی جماعت، حکومت اور جیل حکام کے بیانات میں علاج کے طریقۂ کار اور شفافیت پر اختلاف برقرار ہے۔ موجودہ خبر صرف نئے خط، اس میں درج مطالبات اور ڈان کی رپورٹ میں موجود عدالتی و طبی پس منظر تک محدود ہے؛ خط پر وزیراعظم یا حکومت کا کوئی نیا جواب سامنے آنے پر خبر مادی معلومات کے ساتھ اپ ڈیٹ کی جا سکتی ہے۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




