اسلام آباد: سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز (سی آر ایس ایس) نے اپنی تیسری سہ ماہی 2026 کی سکیورٹی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی اور انسدادِ دہشت گردی سے منسلک تشدد کی ہلاکتوں میں دوسری سہ ماہی کے مقابلے میں 83 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ادارے کے مطابق جولائی سے ستمبر کے دوران کم از کم 385 واقعات میں مجموعی طور پر 1,415 افراد ہلاک اور 558 زخمی ہوئے۔

سی آر ایس ایس کے اعداد و شمار کے مطابق دوسری سہ ماہی میں تشدد سے منسلک ہلاکتوں کی تعداد 774 تھی، جو تیسری سہ ماہی میں بڑھ کر 1,415 ہو گئی۔ رپورٹ نے اس اضافے کا بڑا حصہ بلوچستان میں بڑھتی ہوئی ہلاکتوں سے منسوب کیا۔ صوبے میں گزشتہ سہ ماہی کے 265 کے مقابلے میں 829 ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں، جو تقریباً 213 فیصد اضافہ بنتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بلوچستان نے قومی سطح پر ہونے والے اضافے کا تقریباً 88 فیصد حصہ تشکیل دیا اور ہلاکتوں کے ساتھ ساتھ واقعات کی تعداد میں بھی سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ رہا۔

خیبر پختونخوا میں بھی ہلاکتوں میں اضافہ رپورٹ ہوا۔ سی آر ایس ایس کے مطابق وہاں دوسری سہ ماہی کے 475 کے مقابلے میں تیسری سہ ماہی میں 556 ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں، یعنی تقریباً 17 فیصد اضافہ۔ اس کے برعکس پنجاب، سندھ اور گلگت بلتستان میں رپورٹ کے مطابق ہلاکتوں میں کمی ہوئی، جبکہ آزاد جموں و کشمیر میں تعداد 5 سے بڑھ کر 10 ہو گئی۔

رپورٹ نے ہلاک ہونے والوں کو عام شہریوں، سکیورٹی اہلکاروں اور شدت پسندوں یا قانون شکن عناصر کے زمروں میں تقسیم کیا ہے۔ سی آر ایس ایس کے مطابق 1,415 مجموعی ہلاکتوں میں 921 افراد کو ’آؤٹ لاز‘ کے زمرے میں رکھا گیا، جو کل ہلاکتوں کا 65 فیصد سے زیادہ بنتا ہے۔ ادارے نے کہا کہ یہ ہلاکتیں تقریباً 154 سکیورٹی آپریشنز کے دوران ریکارڈ ہوئیں۔ ساتھ ہی شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی مجموعی ہلاکتوں میں بھی پچھلی سہ ماہی کے مقابلے میں نمایاں اضافہ بتایا گیا۔

یہ اعداد و شمار سی آر ایس ایس کی اپنی مانیٹرنگ اور درجہ بندی پر مبنی ہیں اور انہیں سرکاری قومی سکیورٹی ڈیٹا کا متبادل نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ مختلف ادارے واقعات، متاثرین اور شدت پسندوں کی درجہ بندی کے لیے مختلف طریقہ کار استعمال کر سکتے ہیں، اس لیے دوسرے ڈیٹا سیٹس میں تعداد مختلف ہو سکتی ہے۔

اس کے باوجود رپورٹ کا مرکزی رجحان واضح ہے: 2026 کی پہلی دو سہ ماہیوں میں نسبتاً کمی کے بعد تیسری سہ ماہی میں تشدد سے منسلک جانی نقصانات تیزی سے بڑھے، اور اس اضافے کا سب سے بڑا حصہ بلوچستان سے آیا۔