اسلام آباد: ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کسٹمز ویلیوایشن کراچی نے درآمدی نائلون، پولی ایسٹر اور پولی پروپلین سے بنے ٹفٹڈ اور وون قالین، نیڈل پنچ کارپٹس اور مصنوعی ٹرف کے لیے کسٹمز ویلیوز پر نظرثانی کرتے ہوئے نئی بینچ مارک قیمتیں مقرر کر دی ہیں۔ نئی ویلیوایشن رولنگ نمبر 2118 آف 2026 کسٹمز ایکٹ 1969 کی دفعہ 25-A کے تحت جاری کی گئی اور اس نے ستمبر 2016 کی پرانی رولنگ کی جگہ لے لی ہے۔

رولنگ کے مطابق مخصوص نائلون ٹفٹڈ قالینوں کے لیے 2.45 ڈالر فی مربع میٹر اور مخصوص پولی پروپلین یا پولی ایسٹر وون قالینوں کے لیے 1.95 ڈالر فی مربع میٹر کی بینچ مارک ویلیوز مقرر کی گئی ہیں۔ مختلف اقسام اور اصل ملک کے لحاظ سے دیگر مصنوعات کے لیے بھی الگ کسٹمز ویلیوز طے کی گئی ہیں، جنہیں درآمد کے وقت قابل اطلاق ڈیوٹی اور ٹیکس کے حساب میں استعمال کیا جائے گا۔

کسٹمز حکام نے یہ عمل اس لیے شروع کیا کہ سابقہ ویلیوایشن رولنگ تقریباً دس سال سے نافذ تھی اور عالمی قیمتوں، درآمدی رجحانات اور مصنوعات کی تکنیکی خصوصیات میں تبدیلی کے بعد اسے موجودہ مارکیٹ حالات سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی۔ ڈائریکٹوریٹ نے دستیاب درآمدی ڈیٹا، بین الاقوامی قیمتوں اور متعلقہ تکنیکی معلومات کا جائزہ لینے کے بعد نئی قیمتیں طے کیں۔

کسٹمز ویلیوایشن کا بنیادی مقصد درآمدی اشیا کی قابل قبول کسٹمز قیمت کے لیے ایک حوالہ فراہم کرنا ہے تاکہ کم قیمت ظاہر کرنے یا مختلف بندرگاہوں پر ایک جیسی مصنوعات کی غیر یکساں تشخیص کے امکانات کم کیے جا سکیں۔ نئی رولنگ کا اطلاق متعلقہ پاکستان کسٹمز ٹیرف کوڈز کے تحت آنے والی مصنوعات پر ہوگا اور کلیئرنس کے دوران حکام اسی فریم ورک کو مدنظر رکھیں گے۔

قالین اور مصنوعی ٹرف کی درآمدی صنعت کے لیے یہ تبدیلی لاگت اور ٹیکس واجبات پر اثر انداز ہو سکتی ہے، تاہم اصل اثر ہر درآمدی کھیپ کی قسم، معیار، اصل ملک اور قابل اطلاق ٹیرف پر منحصر ہوگا۔ خبر میں کسی مجموعی مالی اثر یا درآمدی حجم کے بارے میں حتمی تخمینہ نہیں دیا گیا۔

رولنگ کا اجرا ایف بی آر اور کسٹمز کی اس وسیع تر کوشش کا حصہ ہے جس کے تحت پرانی ویلیوایشن رولنگز کو تازہ تجارتی اور بین الاقوامی قیمتوں کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام سے درآمد کنندگان کے لیے نئی حوالہ قیمتیں واضح ہو گئی ہیں جبکہ کسٹمز حکام کو تشخیص کے لیے تازہ بینچ مارک میسر آئے گا۔