اسلام آباد/دوحہ: ڈی ایٹ تنظیم برائے اقتصادی تعاون کے رکن ممالک نے 2030 تک آپس کی تجارت کو 500 ارب ڈالر تک پہنچانے کے ہدف کے لیے مختلف اقدامات آگے بڑھانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ تنظیم کے سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے دوحہ میں ورلڈ انویسٹمنٹ فورم 2026 کے موقع پر وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے ملاقات کے دوران اس ہدف اور رکن ممالک کے درمیان تجارتی تعاون بڑھانے کی ضرورت پر گفتگو کی۔
وزارت تجارت کے مطابق سہیل محمود نے ڈی ایٹ کے لیے پاکستان کی مسلسل حمایت کو سراہا اور مصر کی توثیق کے بعد ڈی ایٹ ترجیحی تجارتی معاہدے پر مؤثر عمل درآمد کی اہمیت اجاگر کی۔ ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ موجودہ تعاون کے فریم ورک کو عملی کاروباری مواقع میں تبدیل کرنے کے لیے نجی شعبے کی شرکت، بہتر مارکیٹ رسائی اور رکن ممالک کے کاروباری اداروں کے درمیان روابط بڑھانا ضروری ہے۔
جام کمال خان نے ڈی ایٹ کے دائرے میں اقتصادی تعاون کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ تجارت میں سہولت، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور پائیدار نمو کے لیے تنظیم کے مشترکہ اقدامات میں پاکستان اپنا کردار جاری رکھے گا۔
وزیر تجارت نے قطر کے سرمایہ کاروں کو پاکستان کے خصوصی اقتصادی زونز میں مواقع کا جائزہ لینے کی دعوت بھی دی، خصوصاً کراچی کے صنعتی علاقے میں برآمدی مینوفیکچرنگ اور صنعتی شراکت داری کے امکانات کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق ایسی سرمایہ کاری پاکستان کی مقامی منڈی کے ساتھ بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کے مواقع بھی فراہم کرسکتی ہے۔
500 ارب ڈالر کی باہمی تجارت ایک تنظیمی ہدف ہے، موجودہ تجارتی حجم یا یقینی نتیجہ نہیں۔ اس کے حصول کے لیے ترجیحی تجارتی انتظامات پر عمل درآمد، تجارتی رکاوٹوں میں کمی، نجی شعبے کی شمولیت اور رکن ممالک کے درمیان سرمایہ کاری و کاروباری روابط میں حقیقی اضافہ درکار ہوگا۔ ملاقات میں کسی نئے مالی پیکیج یا مخصوص سرمایہ کاری معاہدے کے حتمی ہونے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
