اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے گندم کی قیمتوں میں بڑھتے رجحان پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے وفاقی حکام کے ساتھ ملک میں گندم کے ذخائر، قیمت اور سپلائی کی صورت حال کا جائزہ لیا ہے۔ انہوں نے ضروری اشیا سے متعلق کابینہ کمیٹی کے اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کی، جہاں مارکیٹ میں دستیابی اور صارفین پر قیمتوں کے دباؤ سے متعلق امور زیر بحث آئے۔
گندم پاکستان کی بنیادی غذائی اجناس میں شامل ہے اور اس کی قیمت میں تبدیلی آٹے کی خوردہ قیمت کے ذریعے گھرانوں کے بجٹ پر براہ راست اثر ڈالتی ہے۔ اسی وجہ سے حکومت وفاقی اور صوبائی سطح پر پیداوار، سرکاری و نجی ذخائر، بین الصوبائی نقل و حرکت اور مارکیٹ قیمتوں کے اعداد و شمار کی نگرانی کرتی ہے۔
اجلاس میں قیمتوں کے رجحان کا جائزہ اس تناظر میں لیا گیا کہ ملک میں کافی physical stock موجود ہونے کے باوجود مارکیٹ میں قیمت بڑھ سکتی ہے اگر سپلائی چین میں رکاوٹ، ذخیرہ اندوزی، علاقائی عدم توازن یا مستقبل کی قلت سے متعلق توقعات پیدا ہوں۔ ایسے حالات میں حکومت کے لیے درست stock position اور روزانہ کی مارکیٹ معلومات اہم ہوتی ہیں تاکہ کسی انتظامی یا تجارتی فیصلے کی ضرورت کا تعین کیا جا سکے۔
گندم کی پالیسی میں کسان اور صارف دونوں کے مفادات کے درمیان توازن بھی اہم ہے۔ بہت کم قیمت اگلی فصل کے لیے کسان کی کاشت کی ترغیب کم کر سکتی ہے، جبکہ بہت زیادہ قیمت آٹے اور خوراک کی مہنگائی بڑھا سکتی ہے۔ حکومت کی جانب سے indicative support price جیسے اقدامات کا مقصد پیداوار کی حوصلہ افزائی کرنا ہوتا ہے، لیکن مارکیٹ میں حقیقی قیمت موسم، پیداوار، اسٹاک اور طلب و رسد سے بھی متاثر ہوتی ہے۔
کابینہ کمیٹی کا جائزہ بذاتِ خود کسی نئی درآمد، برآمد پابندی یا قیمت مقرر کرنے کے فیصلے کے برابر نہیں ہے۔ ایسے اقدامات کے لیے الگ حکومتی منظوری اور باضابطہ اعلان ضروری ہوگا۔ اس مرحلے پر بنیادی توجہ ذخائر، سپلائی اور قیمتوں کے رجحان کی نگرانی اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطے پر ہے۔
آنے والے ہفتوں میں گندم اور آٹے کی قیمتوں کی سمت اس بات سے واضح ہوگی کہ مارکیٹ میں رسد کس رفتار سے آتی ہے، سرکاری اور نجی ذخائر کس طرح استعمال ہوتے ہیں اور اگلی فصل سے متعلق کسانوں کے فیصلے کیا رہتے ہیں۔ حکومت کے لیے چیلنج یہ ہوگا کہ صارفین کو غیر ضروری مہنگائی سے بچاتے ہوئے مقامی پیداوار کے لیے مناسب معاشی ترغیب بھی برقرار رکھی جائے۔

