اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے متعلقہ وفاقی اور صوبائی حکام کو اضافی اشیائے ضروریہ کی برآمد میں حائل رکاوٹیں دور کرنے اور تجارت کو سہولت دینے کے لیے عملی اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ یہ ہدایات 19 اکتوبر کو اسلام آباد میں اشیائے ضروریہ کی برآمدات کا جائزہ لینے والی کمیٹی کے اجلاس میں دی گئیں۔

سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق اجلاس میں ملک کے اندر اشیائے ضروریہ کی رسد اور طلب، مارکیٹ کی موجودہ صورتحال اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کے مواقع کا جائزہ لیا گیا۔ شرکا نے اس بات پر غور کیا کہ برآمدی تجارت کو سہولت دیتے ہوئے مقامی مارکیٹ میں ضروری اشیا کی مناسب مقدار دستیاب رہے اور قیمتوں میں استحکام متاثر نہ ہو۔

اجلاس کے بعد جاری معلومات میں کسی ایک مخصوص شے کی نئی برآمدی مقدار، کوٹہ یا فوری اجازت کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے اس فیصلے کو عمومی پالیسی ہدایت کے طور پر دیکھنا چاہیے جس میں سرپلس، یعنی ملکی ضرورت سے زائد، اشیا کی برآمد آسان بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ کسی مخصوص کموڈیٹی کی برآمدی اجازت یا مقدار کے بارے میں الگ سرکاری منظوری درکار ہوسکتی ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق باجوہ، تجارت اور قومی غذائی تحفظ کی وزارتوں کے سیکرٹریز اور وفاقی و صوبائی محکموں کے سینئر حکام شریک ہوئے۔ مختلف سطحوں کے حکام کی شرکت اس لیے اہم ہے کہ ضروری اشیا کی برآمد سے متعلق فیصلوں میں پیداوار، ذخائر، مقامی قیمت، صوبائی رسد اور تجارتی پالیسی جیسے متعدد عوامل شامل ہوتے ہیں۔

ریڈیو پاکستان کی اردو سروس نے بھی اجلاس کی رپورٹ میں بتایا کہ نائب وزیراعظم کی زیر صدارت کمیٹی نے ملک میں مناسب دستیابی اور قیمتوں میں استحکام یقینی بنانے کے ساتھ بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کے مواقع پر غور کیا۔ اسحاق ڈار نے حکام کو رکاوٹیں دور کرنے اور اضافی اشیا کی برآمد میں سہولت دینے کے لیے عملی اقدامات کی ہدایت کی۔

پاکستان میں خوراک اور دیگر ضروری کموڈیٹیز کی برآمدی پالیسی کا براہ راست تعلق مقامی صارفین کی قیمتوں اور دستیابی سے ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے اجلاس میں برآمدات بڑھانے کے ساتھ مقامی رسد اور قیمتوں کے استحکام کو بھی شرط کے طور پر نمایاں کیا گیا۔ دستیاب سرکاری بیانات میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کن اشیا کو فوری طور پر سرپلس قرار دیا گیا ہے یا آئندہ اقدامات کے لیے کوئی مخصوص تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ مزید تفصیلات متعلقہ وزارتوں یا اقتصادی فیصلہ ساز اداروں کے آئندہ نوٹیفکیشنز اور فیصلوں سے سامنے آنے کی توقع ہے۔