کراچی/پیرس: پاکستان کی 37 کمپنیاں فرانس میں 17 سے 21 اکتوبر تک جاری بین الاقوامی فوڈ نمائش سیال پیرس 2026 میں شرکت کر رہی ہیں، جہاں پاکستانی چاول، پراسیسڈ غذائی مصنوعات، ہمالیائی پنک سالٹ، مشروبات اور دیگر خوراکی اشیا بین الاقوامی خریداروں کے سامنے پیش کی جا رہی ہیں۔ پاکستان پویلین کا افتتاح فرانس میں پاکستانی سفیر ممتاز زہرا بلوچ نے کیا۔

ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے بینر تلے شریک کمپنیوں میں چاول کے برآمد کنندگان نمایاں ہیں۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق 37 میں سے 22 کمپنیاں رائس سیکٹر کی نمائندگی کر رہی ہیں۔ ٹی ڈی اے پی نے نمائش میں آزادانہ طور پر شرکت کرنے والی بعض پاکستانی کمپنیوں کے لیے ویزا سہولت کاری میں بھی مدد فراہم کی۔

پاکستانی پویلین میں باسمتی چاول کے علاوہ ویلیو ایڈڈ اور پراسیسڈ فوڈ مصنوعات کو یورپی درآمد کنندگان اور تقسیم کاروں کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔ پہلے روز پاکستانی بریانی بھی توجہ کا مرکز بنی، جسے منتظمین نے پاکستانی چاول اور خوراکی ثقافت کو متعارف کرانے کے ایک ذریعے کے طور پر پیش کیا۔

نمائش سے موصول ابتدائی فیڈبیک میں پاکستانی باسمتی کے لیے یورپی خریداروں کی دلچسپی کی اطلاع دی گئی ہے۔ تاہم برآمد کنندگان کی جانب سے آرڈرز کے امکانات کو حوصلہ افزا قرار دیے جانے کے باوجود کسی حتمی برآمدی معاہدے، آرڈر کی مالیت یا نئی فروخت کا مصدقہ مجموعی عدد جاری نہیں کیا گیا۔ اس لیے خریداروں کی دلچسپی کو ممکنہ تجارتی پیش رفت سمجھا جا رہا ہے، حتمی فروخت نہیں۔

سیال پیرس دنیا کی بڑی فوڈ نمائشوں میں شمار ہوتی ہے اور پاکستانی شرکت کا مقصد نئی منڈیوں تک رسائی، بین الاقوامی خریداروں سے کاروباری روابط اور روایتی مصنوعات کے ساتھ ویلیو ایڈڈ خوراک کی برآمد بڑھانا ہے۔ ایسی نمائشیں کمپنیوں کو براہ راست کاروباری ملاقاتوں اور مصنوعات کے معیار، پیکیجنگ اور مارکیٹ کی ضروریات سمجھنے کا موقع دیتی ہیں۔

پاکستان کی زرعی اور غذائی برآمدات میں چاول اہم مقام رکھتا ہے، جبکہ حکومت اور برآمدی ادارے پراسیسڈ فوڈ اور دیگر ویلیو ایڈڈ مصنوعات کا حصہ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سیال پیرس میں 37 کمپنیوں کی شرکت اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ نمائش کے اختتام کے بعد ممکنہ آرڈرز اور تجارتی رابطوں کے عملی نتائج سامنے آنے پر اس شرکت کے مالی اثرات کا زیادہ واضح اندازہ ہو سکے گا۔