اسلام آباد: قومی اکاؤنٹس کمیٹی (این اے سی) نے 19 اکتوبر 2026 کو اپنے 118ویں اجلاس میں مالی سال 2025-26 کے قومی کھاتوں کے نظرثانی شدہ تخمینوں کی منظوری دیتے ہوئے حقیقی مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو 3.65 فیصد مقرر کی ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق یہ شرح این اے سی کے گزشتہ تخمینے 3.70 فیصد سے قدرے کم ہے۔ کمیٹی نے مالی سال کی چوتھی سہ ماہی کی شرح نمو 2.0 فیصد بھی بتائی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 میں معیشت کا مجموعی حجم موجودہ قیمتوں پر تقریباً 126.4 ٹریلین روپے، یعنی 450.4 ارب ڈالر، رہا۔ اسی سرکاری ریلیز میں فی کس آمدن 1,896 ڈالر بتائی گئی۔ این اے سی نے پہلی، دوسری اور تیسری سہ ماہی کی شرح نمو بھی بالترتیب 3.89 فیصد، 4.31 فیصد اور 4.42 فیصد تک ایڈجسٹ کی، جس سے سال بھر کی مجموعی تصویر میں پچھلے تخمینوں کے مقابلے میں تبدیلی آئی۔

شعبہ وار جائزے میں زراعت کی نظرثانی شدہ نمو 3.50 فیصد، صنعت کی 3.34 فیصد اور خدمات کی 3.81 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ زراعت میں اہم فصلوں کی نمو 1.59 فیصد تک بہتر ہوئی، جس میں گندم اور مکئی کی کارکردگی کا کردار بتایا گیا، جبکہ دیگر فصلوں میں بھی بہتری ریکارڈ ہوئی۔ دوسری جانب لائیو اسٹاک کی شرح نمو معمولی کمی کے ساتھ 3.71 فیصد رہی۔

صنعتی شعبے میں کان کنی اور کھدائی کی نمو بہتر ہو کر 1.52 فیصد ہوئی، تاہم بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ کی نمو پہلے اندازے 6.11 فیصد کے مقابلے میں 5.01 فیصد تک نظرثانی کی گئی۔ خدمات کے شعبے میں مجموعی شرح 3.81 فیصد رہی؛ اطلاعات و مواصلات اور مالیات و انشورنس میں نسبتاً مضبوط اضافہ ریکارڈ ہوا، جبکہ تھوک و پرچون تجارت کی شرح نمو میں کمی آئی۔

یہ اعداد و شمار پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس اور قومی اکاؤنٹس کمیٹی کے تازہ سرکاری تخمینوں پر مبنی ہیں۔ نظرثانی کا مطلب یہ ہے کہ مختلف شعبوں سے زیادہ مکمل ڈیٹا ملنے کے بعد سابقہ تخمینوں کو اپ ڈیٹ کیا گیا ہے؛ اسے کسی نئے بجٹ ہدف یا آئندہ مالی سال کی پیش گوئی کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔