اسلام آباد: امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر مسعود خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے دوطرفہ تعلقات کو بنیادی طور پر سکیورٹی کے دائرے تک محدود رکھنے کے بجائے اقتصادی تکمیل، ٹیکنالوجی، تجارت اور پائیدار سرمایہ کاری پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے یہ بات ٹرومین سینٹر کے پروگرام ’دی نیکسٹ چیپٹر آف یو ایس پاکستان ریلیشنز: ڈپلومیسی اینڈ اکنامک انگیجمنٹ‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
مسعود خان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی تعاون کی اہمیت برقرار ہے اور پاکستان انسداد دہشت گردی، علاقائی سلامتی اور مشرق وسطیٰ میں بدلتی صورتحال سے متعلق معاملات میں امریکا کا اہم شراکت دار رہ سکتا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ طویل مدت میں تعلقات کو زیادہ مستحکم بنانے کے لیے اقتصادی اور تکنیکی شعبوں میں تعاون کی بنیاد وسیع کرنا ضروری ہے۔
سابق سفیر نے امریکا کو پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دوطرفہ اقتصادی تعلقات میں ٹیکنالوجی، وینچر کیپیٹل، ڈیجیٹل سروسز اور کاروباری سرگرمیوں کے نمایاں امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے ایسے شعبوں میں ادارہ جاتی رابطے اور سرمایہ کاری بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا جہاں پاکستانی نوجوانوں، آئی ٹی کمپنیوں اور برآمد کنندگان کو امریکی منڈی اور سرمایہ سے فائدہ ہو سکتا ہے۔
ان کا مؤقف تھا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کی تاریخ میں سکیورٹی تعاون کے ادوار نمایاں رہے ہیں، لیکن مستقبل کی شراکت کو زیادہ متوازن بنانے کے لیے تجارت اور سرمایہ کاری کو مستقل ستون بنانا ہوگا۔ انہوں نے کسی نئے سرکاری معاہدے یا سرمایہ کاری پیکیج کا اعلان نہیں کیا؛ ان کی گفتگو پالیسی سمت اور دوطرفہ تعلقات کے ممکنہ اگلے مرحلے سے متعلق تجاویز پر مشتمل تھی۔
پاکستان اور امریکا کے اقتصادی تعلقات میں ٹیکسٹائل اور دیگر برآمدات کے ساتھ ڈیجیٹل خدمات اور ٹیکنالوجی کا حصہ بڑھانے کی گنجائش موجود ہے۔ مسعود خان نے اسی تناظر میں نجی شعبے، سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے درمیان زیادہ روابط کی حمایت کی۔ ان کے مطابق ایسی شراکت سکیورٹی حالات میں اتار چڑھاؤ سے نسبتاً کم متاثر ہونے والا دوطرفہ فریم ورک تشکیل دے سکتی ہے۔
خطاب میں یہ نکتہ بھی سامنے آیا کہ علاقائی سلامتی اور اقتصادی تعاون کو ایک دوسرے کے متبادل کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ سابق سفیر نے سکیورٹی تعاون جاری رکھتے ہوئے اقتصادی شراکت کو وسعت دینے کی بات کی، تاکہ دونوں ممالک کے تعلقات زیادہ دیرپا اور کثیرالجہتی بنیاد پر استوار ہو سکیں۔

