گوادر: وفاقی سیکریٹری برائے بحری امور محمد خرم آغا کی زیر صدارت گوادر میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں بندرگاہی شہر کے جاری ترقیاتی منصوبوں اور گوادر پورٹ اتھارٹی کے انتظامی و تجارتی امور کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں گوادر پورٹ کی مجموعی پیش رفت، پانی کی فراہمی کے منصوبے، فری زون کی سرگرمیوں اور مستقبل کے ماسٹر پلان پر بریفنگ دی گئی۔
گوادر پورٹ اتھارٹی کے چیئرمین نورالحق بلوچ نے اجلاس کو بندرگاہ کی موجودہ صورتحال اور مختلف منصوبوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ بریفنگ میں 12 لاکھ گیلن یومیہ صلاحیت کے حامل واٹر ڈی سیلینیشن پلانٹ، گوادر فری زون میں جاری سرگرمیوں، گوادر انٹرنیشنل ٹرمینل لمیٹڈ سے متعلق معاملات اور پورٹ اتھارٹی کے ماسٹر پلان کو شامل کیا گیا۔
اجلاس میں گوادر پورٹ کی تزویراتی اہمیت اور بندرگاہ پر تجارتی سرگرمیوں میں اضافے کی کوششوں پر بھی گفتگو ہوئی۔ حکام نے فری زون کی ترقی اور بندرگاہ سے منسلک تجارتی و صنعتی سرگرمیوں کو مربوط انداز میں آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق اجلاس کا مقصد مختلف منصوبوں کی عملی پیش رفت کا براہ راست جائزہ لینا اور متعلقہ حکام سے تازہ معلومات حاصل کرنا تھا۔
گوادر پورٹ اتھارٹی کے ماسٹر پلان سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے۔ یہ منصوبہ بندرگاہ اور اس سے وابستہ مستقبل کی تجارتی و صنعتی ترقی کے لیے بنیادی فریم ورک سمجھا جاتا ہے۔ اجلاس میں اس بات پر توجہ دی گئی کہ پورٹ انفراسٹرکچر، ٹرمینل آپریشنز اور فری زون کی ترقی کو الگ الگ منصوبوں کے بجائے ایک مربوط نظام کے طور پر آگے بڑھایا جائے۔
وفاقی سیکریٹری کا دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب گوادر میں بندرگاہی سرگرمیوں، بنیادی سہولتوں اور سرمایہ کاری کے منصوبوں کو عملی شکل دینے کی رفتار مسلسل پالیسی توجہ کا موضوع ہے۔ تاہم اجلاس کے بارے میں جاری تفصیلات میں کسی نئے مالی پیکیج، نئی تکمیل کی حتمی تاریخ یا کسی مخصوص منصوبے کے افتتاح کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے اس پیش رفت کو بنیادی طور پر جاری منصوبوں کے انتظامی اور تکنیکی جائزے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
گوادر کی ترقی میں پانی، رابطہ سڑکوں، بجلی، بندرگاہی سہولتوں اور صنعتی سرگرمیوں کے باہمی تعلق کو اہم سمجھا جاتا ہے۔ 12 لاکھ گیلن یومیہ ڈی سیلینیشن پلانٹ کا جائزہ بھی اسی تناظر میں کیا گیا، کیونکہ مقامی آبادی اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے پانی کی قابل اعتماد فراہمی ایک بنیادی ضرورت ہے۔ اجلاس کی مزید کارروائی یا آئندہ اہداف سے متعلق اضافی سرکاری تفصیلات سامنے آنے پر منصوبوں کی رفتار کا زیادہ واضح اندازہ ہو سکے گا۔

