اسلام آباد: ایران سے ایل پی جی کی زمینی درآمد میں رکاوٹ اور رحیم داد-250 سرحدی راستے کی بندش کے بعد مقامی مارکیٹ میں قیمتوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے، جس پر صنعت کے نمائندوں نے حکومت سے ماہانہ قیمت کے بجائے روزانہ یا ہفتہ وار نرخ مقرر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ نظام تیزی سے بدلتی درآمدی لاگت اور سپلائی کی صورتحال کی درست عکاسی نہیں کرتا۔

ایل پی جی مارکیٹنگ ایسوسی ایشن کے نمائندوں کے مطابق سرحدی رکاوٹ کے بعد قیمت میں ایک ہی ہفتے کے دوران تقریباً 100 روپے فی کلو اضافہ دیکھا گیا۔ صنعت کا دعویٰ ہے کہ 4,500 ٹن سے زیادہ ایل پی جی ایرانی جانب پھنسی ہوئی ہے۔ یہ اعداد صنعت کے نمائندوں کی فراہم کردہ معلومات پر مبنی ہیں اور سرکاری سطح پر ہر مقدار کی الگ تصدیق فوری طور پر دستیاب نہیں۔

پاکستان میں ایل پی جی کی سرکاری قیمت اوگرا کی جانب سے سعودی آرامکو کے کنٹریکٹ پرائس سے منسلک ماہانہ فارمولے کے تحت مقرر ہوتی ہے۔ صنعت کے نمائندوں کا مؤقف ہے کہ پاکستان کی بڑی درآمدی سپلائی ایران، عمان، متحدہ عرب امارات اور عراق سمیت دیگر ذرائع سے آتی ہے، اس لیے سعودی بینچ مارک مقامی درآمدی لاگت کی مکمل نمائندگی نہیں کرتا۔ انہوں نے نرخوں کو حقیقی مارکیٹ لاگت کے مطابق زیادہ بار ایڈجسٹ کرنے کی تجویز دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان سالانہ تقریباً 20 لاکھ ٹن ایل پی جی استعمال کرتا ہے، جس میں مقامی پیداوار کا حصہ تقریباً 30 فیصد اور درآمدات کا حصہ 70 فیصد بتایا گیا ہے۔ ایرانی راستوں، بالخصوص تفتان، مند اور رحیم داد-250، میں رکاوٹوں نے سپلائی چین پر اضافی دباؤ ڈالا ہے، جبکہ گوادر کے راستے نقل و حمل کی لاگت بڑھنے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔

صنعتی نمائندوں نے اوگرا اور حکومت سے درآمدات اور تقسیم کے نظام کی ڈیجیٹل نگرانی، مارکیٹنگ مارجن کے ازسرنو جائزے اور قیمتوں کی زیادہ شفاف اشاعت کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سردیوں میں طلب بڑھنے کے باعث ذخیرہ اندوزی، بلیک مارکیٹنگ اور مصنوعی قلت کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں قدرتی گیس کی رسائی محدود ہے۔

یہ مطالبات صنعت کی تجاویز ہیں اور حکومت یا اوگرا کی جانب سے روزانہ یا ہفتہ وار قیمتوں کے نئے نظام کی منظوری کا اعلان ابھی نہیں ہوا۔ کسی پالیسی تبدیلی کے لیے متعلقہ ریگولیٹری اور حکومتی فیصلے درکار ہوں گے۔ موجودہ صورتحال میں صارفین کے لیے اصل اثر سپلائی کی بحالی، سرحدی تجارت کی صورت حال اور اوگرا کے آئندہ قیمت نوٹیفکیشن سے واضح ہوگا۔