اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے گندم کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مارکیٹ میں رسد بہتر بنانے اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ یہ ہدایات ضروری اشیائے خورونوش کے ذخائر، قیمتوں اور سپلائی کا جائزہ لینے والی کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں دی گئیں۔
اجلاس میں قومی ذخائر، خریداری کے طریقہ کار، ملکی کھپت اور قیمتوں کے رجحانات کا جائزہ لیا گیا۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ضروری اشیا کے مجموعی ذخائر مناسب سطح پر ہیں اور مقامی منڈی میں سپلائی برقرار رکھنے کے لیے دستیابی موجود ہے۔ گندم کے بارے میں بریفنگ میں کہا گیا کہ ملکی پیداوار اور درآمد شدہ گندم کے موجودہ ذخائر اگلی فصل تک ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہیں۔
اسحاق ڈار نے وفاقی اور صوبائی اداروں کو مارکیٹ نیٹ ورک کی مسلسل نگرانی کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذخیرہ اندوزی اور قیمتوں میں مصنوعی اتار چڑھاؤ پیدا کرنے والی قیاس آرائی کے خلاف صفر برداشت کی پالیسی اختیار کی جائے۔ حکومت کے مطابق مقصد یہ ہے کہ مناسب ذخائر کے باوجود صارفین کو غیرضروری مہنگائی کا سامنا نہ کرنا پڑے اور ضروری اشیا مناسب نرخوں پر دستیاب رہیں۔
اجلاس میں چینی کی صورت حال بھی زیر غور آئی۔ حکام کے مطابق مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمت مقررہ ہدف 155 روپے فی کلو سے نیچے رہی اور اگلے کرشنگ سیزن تک اضافی ذخائر دستیاب ہیں۔ اجلاس میں قومی غذائی تحفظ، تجارت اور صوبائی انتظامیہ کے سینئر حکام نے شرکت کی، جس سے قیمتوں کے معاملے پر وفاق اور صوبوں کے درمیان مشترکہ نگرانی کی ضرورت نمایاں ہوئی۔
دوسری جانب کسان نمائندوں نے 2027 کے لیے 4,500 روپے فی من گندم کی اعلانیہ قیمت کا خیرمقدم کرتے ہوئے مؤثر خریداری نظام کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ محض قیمت مقرر کرنا کافی نہیں، بلکہ خریداری مراکز، شفاف طریقہ کار اور شکایات کے ازالے کا قابلِ عمل نظام ضروری ہے تاکہ چھوٹے اور درمیانے کسان مقررہ نرخ حاصل کر سکیں۔
گندم کی قیمتوں کا حالیہ مسئلہ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حکومت کو بیک وقت صارفین کے لیے قیمتوں میں استحکام اور کاشتکاروں کے لیے قابلِ عمل آمدنی یقینی بنانے کا چیلنج درپیش ہے۔ کابینہ کمیٹی کی ہدایات کا اگلا اہم مرحلہ صوبائی سطح پر مارکیٹ سپلائی، ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی اور خریداری پالیسی کے عملی نفاذ کی صورت میں سامنے آئے گا۔

