نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے شراکت دار ممالک کے ساتھ پاکستان کی تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے حکومتی اقدامات کا جائزہ لینے والے اجلاس کی صدارت کی ہے۔ 17 اکتوبر کو اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں مارکیٹ تک رسائی بہتر بنانے، برآمدی مصنوعات اور منڈیوں میں تنوع پیدا کرنے، سرمایہ کاری کے بہاؤ میں سہولت دینے اور سرحد پار تجارت میں انتظامی و طریقہ کار کی رکاوٹیں کم کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔
پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق نائب وزیراعظم نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کے درمیان قریبی رابطے کو معاشی تعاون آگے بڑھانے کے لیے ضروری قرار دیا۔ انہوں نے حکام کو ہدایت کی کہ عمومی اہداف کے بجائے قابل عمل تجاویز تیار کی جائیں اور ان پر بروقت فالو اپ یقینی بنایا جائے تاکہ دستیاب تجارتی اور سرمایہ کاری مواقع کو عملی نتائج میں تبدیل کیا جا سکے۔ سرکاری بیان میں کسی مخصوص ملک کے لیے نئے تجارتی معاہدے، ٹیرف رعایت یا سرمایہ کاری پیکیج کی منظوری کا اعلان نہیں کیا گیا۔
اجلاس میں وفاقی وزیر پٹرولیم، معاون خصوصی برائے خارجہ امور، معاون خصوصی طارق باجوہ، سیکرٹری خارجہ، سیکرٹری تجارت، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈپٹی گورنر اور متعلقہ وزارتوں و محکموں کے سینئر حکام شریک ہوئے۔ مختلف معاشی اور سفارتی اداروں کی شرکت سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت تجارت اور سرمایہ کاری کے معاملات کو خارجہ پالیسی، مالیاتی نظام، توانائی اور تجارتی سہولت کاری کے ساتھ مربوط انداز میں آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔
پاکستان کو برآمدات بڑھانے اور بیرونی سرمایہ کاری راغب کرنے کے لیے مصنوعات کی مسابقت، نئی منڈیوں تک رسائی، ادائیگیوں کے نظام، ضابطہ جاتی تقاضوں اور سرحدی طریقہ کار جیسے متعدد عوامل پر بیک وقت کام کرنا پڑتا ہے۔ اسی لیے اجلاس میں ادارہ جاتی ہم آہنگی اور عملی فالو اپ پر زور دیا گیا۔ برآمدات میں تنوع کا مقصد روایتی مصنوعات یا محدود منڈیوں پر انحصار کم کرنا بھی ہو سکتا ہے، تاہم حکومت نے اس اجلاس کے بعد کسی نئے مقداری ہدف کی تفصیل جاری نہیں کی۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق اگلا مرحلہ متعلقہ اداروں کی جانب سے عملی تجاویز کی تیاری اور ان پر پیش رفت کی نگرانی ہوگا۔ کسی بھی نئے دوطرفہ معاہدے، سرمایہ کاری منصوبے یا مارکیٹ رسائی کے انتظام کو حتمی سمجھنے کے لیے متعلقہ حکومت یا ادارے کی الگ باضابطہ منظوری اور اعلان ضروری ہوگا۔
