وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بنکاک میں عجمان بینک کے وفد سے ملاقات میں پاکستان کے معاشی منظرنامے اور مستقبل کی فنانسنگ شراکت داری پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ ملاقات 17 اکتوبر کو عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر ہوئی، جہاں حکومت نے بیرونی فنانسنگ کے ذرائع متنوع بنانے اور قرض کے انتظام کو زیادہ پائیدار بنانے کی اپنی ترجیحات پیش کیں۔
پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق وزیر خزانہ نے مالیاتی اور بیرونی شعبے کے اشاریوں میں بہتری کا ذکر کرتے ہوئے میکرو اکنامک استحکام اور اصلاحات جاری رکھنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں فریقوں نے ممکنہ سکوک اجرا، روپے میں نامزد مگر ڈالر میں سیٹل ہونے والے مالیاتی آلات اور فنڈنگ کے مختلف ذرائع پر گفتگو کی۔ یہ بات چیت ممکنہ آپشنز سے متعلق تھی؛ کسی نئے سکوک کی مالیت، شرح، اجرا کی تاریخ یا حتمی ڈھانچے کی منظوری کا اعلان نہیں ہوا۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کی قرض انتظام حکمت عملی میں مہنگے قلیل مدتی قرض کی جگہ بہتر شرائط والے ذرائع اختیار کرنا، قرض کی اوسط مدت بڑھانا اور ایک ہی وقت میں بڑی ادائیگیوں کے ارتکاز کو کم کرنا شامل ہے، جبکہ مجموعی بیرونی قرض میں اضافہ نہ کرنے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ وزیر خزانہ نے مستقبل کی فنانسنگ ٹرانزیکشنز میں عجمان بینک کی دلچسپی کا خیرمقدم کیا اور اس کی مشاورت و ممکنہ شرکت کو مثبت قرار دیا۔
ملاقات میں علاقائی تنازع کے معاشی اثرات، بینکاری شعبے کی لچک اور مالی نظم و ضبط کے ساتھ ہدفی ایندھن سبسڈی کے موضوعات بھی زیر بحث آئے۔ سرکاری بیان کے مطابق کھاد کی دستیابی اور غذائی تحفظ کے پہلو پر بھی گفتگو ہوئی۔ حکومت کا موقف ہے کہ علاقائی کشیدگی کے باوجود توانائی اور ضروری زرعی ان پٹس کی دستیابی برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاہم عالمی قیمتیں اور سپلائی کے خطرات بدستور معاشی منصوبہ بندی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
عجمان بینک کے ساتھ یہ رابطہ بنکاک میں پاکستانی وفد کی بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور بینکوں کے ساتھ وسیع تر ملاقاتوں کا حصہ ہے۔ ان مذاکرات کا مقصد سرمایہ منڈی تک رسائی، قرض کی لاگت اور مدت بہتر بنانے اور ممکنہ سرمایہ کاروں کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنا ہے۔ کسی بھی حتمی بانڈ، سکوک یا دوسری فنانسنگ ڈیل کو مکمل سمجھنے کے لیے وزارت خزانہ یا متعلقہ مالیاتی ادارے کی الگ باضابطہ منظوری اور شرائط کا اعلان ضروری ہوگا۔

