کراچی: پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں بڑھ کر 874 ملین ڈالر ہوگیا، جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ 755 ملین ڈالر تھا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے ستمبر مالی سال 2027 کے دوران بیرونی کھاتے پر دباؤ میں اضافے کی بڑی وجہ اشیا کی تجارت میں بڑھتا ہوا خسارہ رہا۔

ستمبر 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ نے 356 ملین ڈالر کا خسارہ ریکارڈ کیا، جبکہ گزشتہ سال ستمبر میں 133 ملین ڈالر کا سرپلس تھا۔ پہلی سہ ماہی کا 874 ملین ڈالر خسارہ پورے مالی سال 2026 میں ریکارڈ کیے گئے 391 ملین ڈالر کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے سے بھی زیادہ ہے، جس سے نئے مالی سال کے ابتدائی مہینوں میں بیرونی ادائیگیوں کے توازن پر دباؤ نمایاں ہوتا ہے۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق جولائی تا ستمبر مالی سال 2027 میں تجارتی خسارہ 15 فیصد سے زیادہ بڑھ کر 10.79 ارب ڈالر ہوگیا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں 9.37 ارب ڈالر تھا۔ درآمدی بل میں اضافے کے پس منظر میں عالمی سطح پر تیل و گیس کی قیمتیں اور خوراک کی درآمدات اہم عوامل کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ کرنٹ اکاؤنٹ میں تجارت کے علاوہ خدمات، آمدنی اور ترسیلات سمیت دیگر بیرونی لین دین بھی شامل ہوتے ہیں، تاہم پہلی سہ ماہی کے مجموعی دباؤ میں تجارتی فرق نمایاں رہا۔

دوسری جانب براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ریکارڈ ہوا۔ جولائی تا ستمبر کے دوران ایف ڈی آئی 719.7 ملین ڈالر رہی، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 600.4 ملین ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 119.3 ملین ڈالر زیادہ ہے۔ صرف ستمبر میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 219.5 ملین ڈالر رہی، جبکہ ایک سال پہلے اسی ماہ یہ 185.3 ملین ڈالر تھی۔

ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق پہلی سہ ماہی میں کینیڈا سے 229 ملین ڈالر اور چین سے 197.5 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری ریکارڈ کی گئی، جبکہ برطانیہ، متحدہ عرب امارات اور ہانگ کانگ سے بھی سرمایہ آیا۔ ایف ڈی آئی میں اضافہ بیرونی کھاتے کے لیے ایک مثبت عنصر ہے، لیکن موجودہ اعداد و شمار یہ بھی دکھاتے ہیں کہ درآمدات اور ادائیگیوں میں تیزی سے بڑھنے والا فرق کرنٹ اکاؤنٹ پر زیادہ بڑا اثر ڈال رہا ہے۔ آئندہ مہینوں میں توانائی اور خوراک کے درآمدی اخراجات، برآمدات اور ترسیلات زر کی رفتار اس توازن کی سمت کے لیے اہم رہیں گی۔