پاکستان نے ایران کے ساتھ دو اہم سرکاری سرحدی گزرگاہوں، گبد رمدان اور تفتان، کے ذریعے تجارت فوری طور پر معطل کر دی ہے۔ ڈان کے مطابق وزارت تجارت نے جمعے کو ایک میمورنڈم جاری کیا جس میں 3 اکتوبر کے سابقہ حکم کو واپس لے لیا گیا۔ نئی ہدایت میں تجارتی بندش کی کوئی وجہ درج نہیں کی گئی۔

گبد رمدان کراسنگ بلوچستان کے ساحلی خطے کے قریب پاکستان ایران تجارت کے لیے استعمال ہوتی ہے، جبکہ تفتان طویل عرصے سے دونوں ملکوں کے درمیان زمینی تجارت اور آمدورفت کا اہم راستہ ہے۔ تازہ فیصلے کے بعد ان گزرگاہوں سے درآمد اور برآمد کی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق مائع پٹرولیم گیس، چاول، تازہ پھل اور دیگر ضروری اشیا لے جانے والی سیکڑوں مال بردار گاڑیاں سرحد کے دونوں جانب پھنس گئی ہیں۔

کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے بھی ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے اپنے اراکین اور تاجروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اگلے حکم تک نئے درآمدی یا برآمدی آرڈر نہ دیں۔ ذرائع کے مطابق بندش کے بعد پاکستانی اور ایرانی حکام کے درمیان ابتدائی رابطہ ہوا ہے، تاہم تجارت کی بحالی کے وقت یا کسی نئے انتظام کے بارے میں فوری طور پر کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔

ایران پاکستان کے سرحدی علاقوں کے لیے ایندھن، خوراک اور دیگر اشیا کی تجارت کے حوالے سے اہم ہمسایہ ملک ہے، جبکہ بلوچستان کے کاروباری حلقوں کے لیے زمینی راستوں کی بندش نقل و حمل کے اخراجات اور سپلائی چین پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔ پھنسے ہوئے ٹرکوں میں خراب ہونے والی زرعی اجناس کی موجودگی تاجروں کے لیے اضافی مالی خطرہ پیدا کر سکتی ہے۔

چونکہ وزارت تجارت کے میمورنڈم میں بندش کی وجہ بیان نہیں کی گئی، اس لیے اس فیصلے کے محرک کے بارے میں قیاس آرائی کو مصدقہ حقیقت نہیں سمجھا جا سکتا۔ آئندہ صورتحال وزارت تجارت، سرحدی حکام اور دونوں ملکوں کے باہمی رابطوں سے واضح ہوگی۔ فی الحال تصدیق شدہ بات یہی ہے کہ دونوں نامزد سرکاری تجارتی راستوں پر تجارت معطل کی گئی ہے اور کاروباری اداروں کو نئے آرڈرز روکنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔