اسلام آباد: قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2024 اور 2025 کے دوران مجموعی طور پر 43 لاکھ سے زائد غیر ملکی سیاح پاکستان آئے۔ وزارت بین الصوبائی رابطہ نے ایوان کو بتایا کہ 2024 میں بین الاقوامی سیاحوں کی تعداد 21 لاکھ سے زیادہ رہی، جبکہ 2025 میں تقریباً 22 لاکھ غیر ملکی سیاحوں کی آمد ریکارڈ کی گئی۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق دو سالہ اعداد و شمار میں مختلف ممالک سے آنے والے مسافروں کی تفصیل بھی دی گئی۔ افغانستان سے 12 لاکھ 16 ہزار سے زائد، برطانیہ سے 10 لاکھ 17 ہزار سے زیادہ اور امریکا سے پانچ لاکھ سے زائد سیاح پاکستان آئے۔ ایران سے آنے والوں کی تعداد تقریباً دو لاکھ 60 ہزار جبکہ کینیڈا سے تقریباً دو لاکھ 34 ہزار بتائی گئی۔
چین سے آنے والے سیاحوں کے اعداد میں سالانہ اضافہ دکھائی دیا۔ سرکاری معلومات کے مطابق 2024 میں چین سے 74 ہزار 93 سیاح پاکستان پہنچے، جبکہ 2025 میں یہ تعداد بڑھ کر 85 ہزار 575 ہوگئی۔ یہ اعداد دو سال کے دوران بین الاقوامی آمدورفت کے جغرافیائی تنوع کی ایک تصویر پیش کرتے ہیں، تاہم رپورٹ میں سیاحت سے حاصل ہونے والی مجموعی آمدن یا ہر سیاح کے قیام کی مدت کی تفصیل شامل نہیں تھی۔
غیر ملکی سیاحوں کی تعداد پاکستان کے ہوٹل، ٹرانسپورٹ، مقامی خدمات، تاریخی و ثقافتی مقامات اور شمالی علاقوں سے وابستہ کاروبار کے لیے معاشی اہمیت رکھتی ہے۔ تاہم محض سرحدی آمد کے اعداد سے سیاحت کے مکمل معاشی اثر کا تعین نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ اس کے لیے سیاحتی اخراجات، قیام کے دورانیے، سفر کے مقصد اور مختلف علاقوں میں خرچ ہونے والی رقم جیسے اضافی اشاریوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
قومی اسمبلی میں پیش کردہ یہ اعداد 2024 اور 2025 کی مجموعی تصویر دیتے ہیں اور ان سے 2025 میں پچھلے سال کے مقابلے میں معمولی اضافہ ظاہر ہوتا ہے۔ مستقبل میں اس رجحان کو برقرار رکھنے کے لیے ویزا سہولت، فضائی رابطے، سکیورٹی، سیاحتی مقامات کی بنیادی سہولیات اور بین الاقوامی مارکیٹنگ اہم عوامل رہیں گے۔ فی الحال سرکاری اعداد کا بنیادی نتیجہ یہ ہے کہ دو سال میں پاکستان آنے والے غیر ملکی سیاحوں کی تعداد 43 لاکھ سے تجاوز کرگئی۔

