بینکاک: وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے ایڈمنسٹریٹر اور اقوام متحدہ کے انڈر سیکریٹری جنرل الیگزینڈر ڈی کرو سے ملاقات میں پاکستان کے لیے ترقیاتی فنانسنگ، موسمیاتی لچک اور روزگار کے مواقع بڑھانے سے متعلق مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ ملاقات عالمی بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے 2026 کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں ہوئی۔

پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے سرکاری بیان کے مطابق وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ دستیاب مالی وسائل اور پالیسی فریم ورک کو قابلِ عمل اور بینکوں کے لیے قابلِ فنانسنگ منصوبوں میں تبدیل کرنے کے لیے عملدرآمد کی صلاحیت مضبوط بنانا ضروری ہے۔ دونوں فریقوں نے یو این ڈی پی کے Implementation Bridge اور SDG Investment Fair و V20 پلیٹ فارم کے ذریعے قابلِ سرمایہ کاری منصوبوں کی پائپ لائن تیار کرنے پر گفتگو کی۔

ملاقات میں مربوط فنانسنگ، بلینڈڈ فنانس، سرکاری و نجی شعبے کی شراکت داری اور یو این ڈی پی و عالمی بینک کے درمیان قریبی تعاون کے امکانات بھی زیر بحث آئے۔ پاکستان کو ترقیاتی ضروریات کے ساتھ ساتھ بیرونی قرضوں، موسمیاتی خطرات اور محدود مالی گنجائش جیسے مسائل کا سامنا ہے، اس لیے مختلف ذرائع سے سرمایہ اکٹھا کرنے کے طریقوں کو حکومتی معاشی حکمت عملی میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق حیاتیاتی تنوع کی فنانسنگ کے ساتھ ممکنہ debt-for-nature اور debt-for-climate swaps پر بھی گفتگو ہوئی۔ ان طریقوں میں قرضوں کے انتظام کو ماحول یا موسمیاتی اہداف سے منسلک کرنے کی گنجائش دیکھی جاتی ہے، تاہم بیان میں کسی مخصوص معاہدے، رقم یا حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے ان نکات کو فی الحال زیرِ غور مالیاتی امکانات ہی سمجھا جائے گا۔

محمد اورنگزیب نے نجی شعبے کی قیادت میں روزگار پیدا کرنے، کیش فلو کی بنیاد پر قرضوں، ڈیجیٹل فنانس اور چھوٹے کاروباروں اور کسانوں کے لیے ضمانتی سہولتوں کو وسعت دینے کی ضرورت بھی بیان کی۔ ملاقات میں موسمیاتی خطرات کے لیے انشورنس تعاون، Global Shield اور parametric insurance جیسے طریقوں پر مشترکہ کام کے امکانات زیر بحث آئے۔

پاکستان موسمیاتی آفات سے متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے اور سیلاب، شدید گرمی، خشک سالی اور دیگر خطرات ترقیاتی اخراجات پر دباؤ بڑھاتے ہیں۔ اسی پس منظر میں حکومت بین الاقوامی اداروں کے ساتھ ایسی مالیاتی سہولتوں پر بات کر رہی ہے جو ترقیاتی منصوبوں، نجی سرمایہ کاری، چھوٹے کاروبار اور موسمیاتی تحفظ کے اہداف کو ایک ساتھ آگے بڑھا سکیں۔ تازہ ملاقات میں کسی نئے قرض یا فنڈ کے اجرا کا اعلان نہیں ہوا، بلکہ تعاون کے ممکنہ ڈھانچوں اور منصوبوں کی تیاری پر توجہ دی گئی۔