بینکاک: شارجہ اسلامک بینک نے پاکستان کی جانب سے مستقبل میں ممکنہ سکوک اجرا میں شرکت کے لیے اپنی حمایت اور آمادگی ظاہر کی ہے۔ یہ پیش رفت وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب اور بینک کے وفد کے درمیان عالمی بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے 2026 کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر ہونے والی ملاقات میں سامنے آئی۔

پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق وزیر خزانہ نے ملاقات میں پاکستان کے مالی اور بیرونی شعبے کے اشاریوں، زرمبادلہ کے ذخائر، کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پیش رفت کا ذکر کیا۔ دونوں فریقوں نے مستقبل کی فنانسنگ کے مختلف ممکنہ ذرائع پر گفتگو کی، جن میں سکوک، روپے میں نامزد مگر ڈالر میں سیٹل ہونے والے آلات، مزید پانڈا بانڈ اجرا اور ممکنہ یورو بانڈ ٹوکنائزیشن شامل تھے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ قرضوں کے انتظام میں حکومت کی توجہ مہنگے قلیل مدتی قرض کو نسبتاً بہتر شرائط والے ذرائع سے تبدیل کرنے، قرضوں کی مدت بڑھانے اور ادائیگیوں کے مخصوص ادوار میں زیادہ دباؤ کم کرنے پر ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق یہ حکمت عملی مجموعی بیرونی قرض میں اضافہ کیے بغیر قرضوں کی ساخت بہتر بنانے کے مقصد سے زیر غور ہے۔

ملاقات میں Multilateral Investment Guarantee Agency یعنی MIGA کی پشت پناہی سے ممکنہ فنانسنگ اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی فنانسنگ لاگت کے اثرات بھی زیر بحث آئے۔ شارجہ اسلامک بینک کے وفد نے پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھنے اور ممکنہ سکوک میں حصہ لینے کے لیے آمادگی ظاہر کی، تاہم اعلامیے میں سکوک کی مالیت، اجرا کی تاریخ، شرح منافع یا حتمی ڈھانچے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے اسے فی الحال فنانسنگ مذاکرات اور بینک کی دلچسپی کے طور پر دیکھا جائے گا، نہ کہ مکمل شدہ مالیاتی لین دین کے طور پر۔

وزیر خزانہ نے وفد کو پاکستان میں ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری اور ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ سے متعلق سرمایہ کاری کے مواقع سے بھی آگاہ کیا۔ فریقین نے مالیاتی اداروں کے اجرا کے ذریعے کیپیٹل مارکیٹ کے بینچ مارکس بنانے اور کاروبار، چھوٹے و درمیانے درجے کے اداروں اور زرعی شعبے کے لیے قرضوں کی فراہمی بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

پاکستان حالیہ برسوں میں بیرونی فنانسنگ کے ذرائع متنوع بنانے، اسلامی مالیاتی آلات کے استعمال اور بین الاقوامی بانڈ مارکیٹ تک رسائی بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ تازہ ملاقات اسی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے، جس میں قرضوں کی لاگت، ادائیگیوں کی مدت اور سرمایہ کاروں کی بنیاد کو بہتر بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ کسی بھی مجوزہ سکوک یا دوسرے بانڈ کے حتمی اجرا کے لیے الگ سرکاری اعلان اور مالی شرائط کی تصدیق ضروری ہوگی۔