کراچی: پاکستان کسٹمز نے گڈاپ ٹاؤن میں ایک مشترکہ تقریب کے دوران مجموعی طور پر 7 ارب 71 کروڑ 10 لاکھ روپے مالیت کا ضبط شدہ اور بحقِ سرکار ممنوعہ سامان تلف کر دیا۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق کارروائی کسٹمز انفورسمنٹ کراچی اور کلکٹریٹ آف کسٹمز ایئرپورٹ، جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی نے مشترکہ طور پر انجام دی۔

پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے 17 اکتوبر کو جاری بیان کے مطابق تلف کیے گئے سامان میں تقریباً 7 ارب 12 کروڑ 40 لاکھ روپے مالیت کی منشیات شامل تھیں۔ اس کے علاوہ شراب اور دیگر ممنوعہ اشیا، زائدالمیعاد مصنوعات اور جعلی سامان بھی تلف کیا گیا، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 58 کروڑ 65 لاکھ 80 ہزار روپے بتائی گئی۔ اس طرح تلف کیے گئے تمام سامان کی سرکاری طور پر بیان کردہ مجموعی مالیت 7.711 ارب روپے بنتی ہے۔

حکام کے مطابق ضبط شدہ سامان کی تلفی کسٹمز ایکٹ 1969 اور کسٹمز جنرل آرڈر نمبر 12/2002 میں مقرر قانونی طریقہ کار کے مطابق کی گئی۔ ایسی کارروائیوں کا مقصد وہ اشیا مستقل طور پر ختم کرنا ہوتا ہے جنہیں قانون کے تحت ضبط یا بحقِ سرکار کر لیا گیا ہو اور جن کی دوبارہ مارکیٹ میں واپسی یا غیر قانونی استعمال روکنا ضروری ہو۔

سرکاری بیان میں منشیات، ممنوعہ مصنوعات، جعلی اور زائدالمیعاد سامان کی الگ الگ مقدار یا ہر قسم کی اشیا کی مکمل فہرست فراہم نہیں کی گئی، اس لیے دستیاب سرکاری اعداد و شمار سے آگے کسی مقدار یا نوعیت کا اندازہ لگانا درست نہیں ہوگا۔ تاہم اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ منشیات تلف کیے گئے سامان کی مالی مالیت کا سب سے بڑا حصہ تھیں۔

پاکستان کسٹمز نے اس کارروائی کو اسمگلنگ اور ممنوعہ اشیا کی غیر قانونی تجارت کے خلاف اپنی مہم کا حصہ قرار دیا ہے۔ ادارے کے مطابق ایسی سرگرمیوں کا مقصد عوامی صحت کا تحفظ، قومی محصولات کو نقصان سے بچانا اور قانونی تجارت کو فروغ دینا ہے۔

کراچی ملک کی سب سے بڑی بندرگاہی اور تجارتی گزرگاہ ہونے کے باعث درآمدات، برآمدات اور فضائی کارگو کے بڑے حصے کا مرکز ہے۔ اسی وجہ سے بندرگاہوں، ایئرپورٹ اور زمینی راستوں پر کسٹمز انفورسمنٹ کی کارروائیاں اسمگلنگ کی روک تھام اور ممنوعہ سامان کی ضبطی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ تازہ کارروائی میں کسٹمز کے دو متعلقہ کلکٹریٹس کی شمولیت نے سمندری و شہری انفورسمنٹ اور ایئرپورٹ پر ضبط کیے گئے سامان کی مشترکہ تلفی کو ممکن بنایا۔