اسلام آباد: پاکستان میں ستمبر 2026 کے دوران بجلی کی اوسط ایندھن لاگت سالانہ بنیاد پر تقریباً 37.5 فیصد بڑھ کر 10.02 روپے فی یونٹ ہو گئی، جبکہ ایک سال قبل یہی لاگت 7.29 روپے فی یونٹ تھی۔ سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کی جانب سے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق مہنگے ایندھن کے زیادہ استعمال اور درآمدی کوئلے پر بڑھتے انحصار نے مجموعی لاگت میں نمایاں اضافہ کیا۔

اعداد و شمار کے مطابق ستمبر میں بجلی کی کھپت ایک سال پہلے کے مقابلے میں تقریباً چار فیصد بڑھی، مگر ایندھن کی لاگت میں اضافہ اس سے کہیں زیادہ رہا۔ اگست کے مقابلے میں ستمبر کی کھپت تقریباً 12 فیصد کم تھی، اس کے باوجود اوسط ایندھن لاگت 8.83 روپے سے بڑھ کر 10.02 روپے فی یونٹ ہوگئی۔ یہ فرق بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال ہونے والے ایندھن کے امتزاج میں تبدیلی کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

سی پی پی اے نے ستمبر میں ہائی اسپیڈ ڈیزل سے تقریباً 213 گیگاواٹ آور بجلی پیدا ہونے کی اطلاع دی، جو مجموعی گرڈ سپلائی کا لگ بھگ 1.6 فیصد تھی۔ ڈیزل سے بجلی پیدا کرنے کی لاگت 62.14 روپے فی یونٹ تک پہنچ گئی۔ اگست میں ڈیزل سے پیداوار 80 گیگاواٹ آور تھی اور فی یونٹ لاگت تقریباً 54 روپے بتائی گئی تھی۔ فرنس آئل سے پیداوار کی لاگت ستمبر میں 44.86 روپے فی یونٹ رہی۔

رپورٹ کے مطابق آر ایل این جی سے بجلی کی پیداوار ستمبر میں کم ہو کر تقریباً 804 گیگاواٹ آور رہ گئی، جبکہ گزشتہ سال اسی مہینے میں یہ 1,815 گیگاواٹ آور تھی۔ جوہری بجلی کی پیداوار بھی سالانہ بنیاد پر 2,227 گیگاواٹ آور سے کم ہو کر 1,893 گیگاواٹ آور رہی۔ ان کمیوں کے نتیجے میں درآمدی کوئلے سے پیداوار کا حصہ تقریباً دوگنا ہو کر 16.3 فیصد تک پہنچ گیا، جبکہ ایک سال پہلے یہ آٹھ فیصد تھا۔

درآمدی کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کی لاگت بھی تقریباً 25.5 فیصد بڑھ کر 17.24 روپے فی یونٹ ہوگئی۔ اس کے برعکس پن بجلی، مقامی کوئلہ، مقامی گیس، جوہری اور قابلِ تجدید ذرائع نے مجموعی پیداوار کا بڑا حصہ فراہم کیا۔ ستمبر میں تقریباً 76 فیصد بجلی ایسے مقامی ذرائع سے آئی جن کی ایندھن لاگت نسبتاً کم یا صفر ہوتی ہے، لیکن مہنگے ذرائع کے محدود مگر نمایاں استعمال نے اوسط لاگت کو اوپر دھکیل دیا۔

سی پی پی اے نے اضافی فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کی درخواست بھی کی ہے، جس کا حتمی فیصلہ نیپرا کے ریگولیٹری عمل اور سماعت کے بعد ہوگا۔ اس لیے صارفین کے بلوں پر حتمی اثر کو منظوری سے پہلے قطعی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ دستیاب اعداد و شمار البتہ واضح کرتے ہیں کہ ستمبر میں ایندھن کے امتزاج، ایل این جی کی محدود دستیابی اور درآمدی کوئلے و ڈیزل کے زیادہ استعمال نے بجلی کی پیداواری لاگت پر نمایاں دباؤ ڈالا۔