پاکستان کے شیڈول بینکوں کے مجموعی ڈپازٹس ستمبر 2026 میں 40.83 کھرب روپے تک پہنچ گئے، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں تقریباً 16 فیصد زیادہ ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار پر مبنی مارکیٹ تجزیے کے مطابق ستمبر 2025 میں ڈپازٹس 35.21 کھرب روپے تھے۔
چار سالہ موازنہ بھی بینکاری نظام کے ڈپازٹ بیس میں نمایاں توسیع دکھاتا ہے۔ ستمبر 2022 میں مجموعی ڈپازٹس تقریباً 21 کھرب روپے تھے، یعنی چار برس میں ان میں لگ بھگ 19.83 کھرب روپے کا اضافہ ہوا۔ اسی عرصے میں بلند شرح سود، مالیاتی بچت، مہنگائی اور معیشت کے مجموعی حجم میں تبدیلی جیسے عوامل نے بینکاری بیلنس شیٹس کو متاثر کیا ہے۔
ستمبر 2026 میں بینکوں کے advances سالانہ 14.3 فیصد بڑھ کر 15.38 کھرب روپے ہوئے، جبکہ سرمایہ کاری 12.1 فیصد اضافے کے ساتھ 40.14 کھرب روپے تک پہنچی۔ advances-to-deposits ratio تقریباً 37.7 فیصد بتایا گیا، جو اس بحث کو تقویت دیتا ہے کہ بینکوں کے بڑھتے وسائل کا کتنا حصہ نجی کاروبار اور صنعت کو قرض کی صورت میں دستیاب ہو رہا ہے۔
سابق نگران وفاقی وزیر گوہر اعجاز نے مؤقف اختیار کیا کہ بینکوں کو بڑھتے ڈپازٹس کا بڑا حصہ کاروباری اور صنعتی سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور روزگار پیدا کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہیے، بجائے اس کے کہ وسائل کا بڑا حصہ حکومتی قرض گیری کی طرف جائے۔ یہ ان کا پالیسی مؤقف ہے؛ بینکوں کی سرمایہ کاری کا فیصلہ ریگولیٹری تقاضوں، خطرے، شرح سود، قرض کی طلب اور سرکاری سیکیورٹیز کی دستیابی سمیت کئی عوامل سے متاثر ہوتا ہے۔
ڈپازٹس میں اضافہ مالیاتی نظام میں دستیاب فنڈز کی وسعت ظاہر کرتا ہے، لیکن حقیقی معیشت پر اس کے اثرات کا انحصار کریڈٹ کی تقسیم پر ہوگا۔ نجی شعبے کو پائیدار قرض، سرمایہ کاری اور روزگار میں اضافہ ہونے کی صورت میں بینکاری وسائل معاشی نمو میں زیادہ براہ راست کردار ادا کر سکتے ہیں۔
