دوشنبے: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ باہمی تجارت اور ادائیگیوں میں قومی کرنسیوں کے استعمال کو بڑھایا جائے اور ایسے علاقائی مالیاتی طریقہ کار قائم کیے جائیں جو بین الاقوامی مالیاتی جھٹکوں کے اثرات کم کرنے میں مدد دے سکیں۔ انہوں نے یہ بات تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ کے اجلاس سے خطاب میں کہی۔

ڈار نے قومی کرنسیوں میں باہمی تصفیے کے عمل کو تیز کرنے کے ساتھ ایس سی او ڈویلپمنٹ بینک، ڈویلپمنٹ فنڈ اور انویسٹمنٹ فنڈ کے قیام کی ضرورت دہرائی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے مالیاتی آلات خطے کے ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھانے اور بیرونی مالیاتی دباؤ کے مقابلے میں رکن ممالک کی استعداد بڑھانے میں معاون ہو سکتے ہیں۔ قومی کرنسیوں کے استعمال میں بتدریج اضافے کا تصور ایس سی او کے سابقہ مشترکہ اعلانات میں بھی شامل رہا ہے۔

پاکستانی وزیر خارجہ نے چین پاکستان اقتصادی راہداری کو ایس سی او ممالک کے لیے علاقائی اقتصادی انضمام میں شمولیت کا ایک موقع قرار دیا اور توانائی و ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے میں ہدفی سرمایہ کاری پر زور دیا۔ انہوں نے زراعت، کان کنی و معدنیات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت زیادہ امکانات رکھنے والے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کی بھی حمایت کی۔

ڈار نے مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل تبدیلی، اختراع، توانائی تعاون اور بین الاقوامی انفارمیشن سکیورٹی کو ایس سی او کے مستقبل کے تعاون کے اہم ستون بنانے کی تجویز دی۔ انہوں نے کسٹمز طریقہ کار آسان کرنے، چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کے لیے براہ راست کاروباری روابط بڑھانے اور ایس سی او انٹربینک کنسورشیم کو زیادہ فعال بنانے کی سفارش بھی کی۔

خطاب کے دوران انہوں نے افغانستان سے متعلق پاکستان کا مؤقف بھی پیش کیا۔ ڈار نے کہا کہ علاقائی معاشی ترقی کے لیے پائیدار امن ضروری ہے اور پاکستان ایک پرامن، مستحکم اور علاقائی طور پر مربوط افغانستان چاہتا ہے۔ انہوں نے افغان طالبان انتظامیہ سے پاکستان کی یہ توقع دہرائی کہ افغان سرزمین پاکستان یا کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔ یہ پاکستان کا سرکاری مؤقف ہے؛ کابل ماضی میں اپنی سرزمین کے دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے کے پاکستانی الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔

اجلاس کے موقع پر ڈار نے تاجک وزیر خارجہ سراج الدین مہرالدین سے بھی ملاقات کی، جس میں تجارت، اقتصادی تعاون، علاقائی رابطہ، توانائی اور سکیورٹی کے شعبوں میں روابط بڑھانے پر بات ہوئی۔ پاکستان 2027 میں ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کے سربراہی اجلاس کی میزبانی کا ارادہ رکھتا ہے۔