دوشنبے: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے شنگھائی تعاون تنظیم کے خطے میں معاشی انضمام کے لیے توانائی اور ٹرانسپورٹ سمیت بنیادی شعبوں میں ہدفی سرمایہ کاری بڑھانے پر زور دیا ہے۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق انہوں نے ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ کے محدود نشست اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زراعت، کان کنی و معدنیات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے اعلیٰ امکانات رکھنے والے شعبوں میں سرمایہ کاری خطے کو زیادہ مضبوط اور باہم مربوط معاشی مستقبل دے سکتی ہے۔
اسحاق ڈار نے چین پاکستان اقتصادی راہداری کو ایس سی او کے شراکت داروں کے لیے علاقائی اقتصادی انضمام میں حصہ لینے کا موقع قرار دیا۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل تبدیلی، جدت، توانائی تعاون اور بین الاقوامی معلوماتی سلامتی کو مستقبل کے ایس سی او تعاون کے اہم ستون بنانے کی حمایت کی۔ انہوں نے باہمی ادائیگیوں میں قومی کرنسیوں کے استعمال کو فروغ دینے اور ایس سی او ڈیولپمنٹ بینک، ڈیولپمنٹ فنڈ اور سرمایہ کاری فنڈ کے قیام کی کوششیں تیز کرنے کی ضرورت بھی بیان کی۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ پائیدار معاشی ترقی خطے میں دیرپا امن و سلامتی کے بغیر ممکن نہیں۔ افغانستان کے بارے میں انہوں نے پاکستان کی خواہش دہرائی کہ ملک پرامن، مستحکم، علاقائی طور پر مربوط اور خوشحال ہو۔ ساتھ ہی انہوں نے پاکستان کا موقف پیش کیا کہ افغان سرزمین پاکستان یا دنیا کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔
خطاب میں پیش کی گئی تجاویز فوری طور پر منظور شدہ منصوبے نہیں بلکہ پاکستان کی جانب سے ایس سی او تعاون کے لیے پالیسی ترجیحات ہیں۔ ان کی عملی اہمیت اس بات پر منحصر ہوگی کہ رکن ممالک مالیاتی اداروں، سرحد پار انفراسٹرکچر، سرمایہ کاری کے قواعد اور ادائیگی کے متبادل نظام پر کس حد تک مشترکہ فیصلے کرتے ہیں۔

