کیف/اوسلو: یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف سے ملاقات کے لیے اوسلو جا رہے ہیں، جہاں دونوں جانب حالیہ کشیدگی کے بعد امریکا یوکرین تعلقات اور جنگ سے متعلق دفاعی ضروریات پر بات چیت متوقع ہے۔ رائٹرز کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں میں واشنگٹن اور کیف کے تعلقات میں تناؤ بڑھا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں روس کے بارے میں نسبتاً نرم مؤقف اختیار کیا اور زیلنسکی پر تنقید کرتے ہوئے یوکرین سے مذاکرات کے لیے کسی دوسرے نمائندے پر غور کرنے کا مطالبہ کیا۔ دوسری جانب کیف نے شکایت کی ہے کہ روسی میزائل حملوں سے متعلق بعض ابتدائی وارننگ معلومات اور سیٹلائٹ رابطوں کی دستیابی متاثر ہوئی ہے۔

زیلنسکی نے کہا کہ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے بیلسٹک میزائل روکنے کی صلاحیت، روسی حملوں کی پیشگی اطلاع اور Starlink/Starshield سیٹلائٹ نظام کی صورتحال پر بات کی ہے۔ یوکرین کے لیے یہ مواصلاتی نظام میدان جنگ میں رابطے اور بعض دفاعی کارروائیوں کے لیے اہم رہے ہیں۔

اوسلو میں ناروے کے وزیر اعظم یوناس گاہر اسٹورے میزبان ہوں گے جبکہ فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب بھی بات چیت میں شریک ہونے والے ہیں۔ امریکی صدر کے قریبی مشیر جیرڈ کشنر کی ورچوئل شرکت بھی متوقع ہے۔ اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کا پروگرام بتایا گیا ہے۔

امریکا نے براہ راست فوجی امداد کے بعض حصوں میں کمی کی ہے، تاہم یورپی ممالک کے ذریعے یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی اور انٹیلی جنس تعاون کے کچھ راستے برقرار ہیں۔ اوسلو مذاکرات سے فوری امن معاہدے کی توقع ظاہر نہیں کی گئی، مگر یہ ملاقات واشنگٹن اور کیف کے درمیان رابطہ بحال رکھنے اور دفاعی تعاون کے عملی مسائل حل کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔