سیول: جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کی جانب سے سرحدی علاقے میں فوجی پوزیشن مضبوط کرنے اور مزید اقدامات کی دھمکیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی نئی اشتعال انگیزی کا سخت جواب دیا جائے گا۔ جنوبی کوریائی وزارت دفاع کے مطابق سرحد کے قریب اس کی نشریات اور انتباہی فائر دفاعی نوعیت کے اقدامات ہیں جن کا مقصد فوجی حد بندی لائن عبور کرنے والے شمالی کوریائی اہلکاروں کو واپس جانے پر مجبور کرنا ہے۔
یہ بیان شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کی بہن کم یو جونگ کے ان الزامات کے بعد سامنے آیا کہ جنوبی کوریا کے انتباہی فائر سے شمالی کوریائی فوجیوں کو خطرہ لاحق ہوا۔ پیانگ یانگ نے سرحد کے قریب اضافی تاکتیکی ہتھیار تعینات کرنے اور جنوبی کوریا کی سمت لاؤڈ اسپیکر نشریات دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔
جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جن ینگ سیونگ نے اگلے مورچوں کا دورہ کرتے ہوئے فوجی تیاری کا جائزہ لیا۔ سیول نے گزشتہ ماہ بارودی سرنگ کے ایک واقعے میں اپنے فوجیوں کے زخمی ہونے کی ذمہ داری شمالی کوریا پر عائد کی اور اسے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا۔ شمالی کوریا نے اس معاملے پر مختلف مؤقف اختیار کیا ہے۔
شمالی کوریا 2024 سے سرحدی علاقے میں بارودی سرنگیں اور رکاوٹیں نصب کر رہا ہے۔ جنوبی کوریا کے مطابق رواں سال ہزاروں شمالی کوریائی کارکن اس علاقے میں تعینات رہے اور اہلکار متعدد بار فوجی حد بندی لائن عبور کر چکے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بار بار انتباہی فائر اور جوابی دھمکیاں کسی غلط فہمی یا غلط اندازے کے نتیجے میں محدود فوجی جھڑپ کا خطرہ بڑھا سکتی ہیں۔
صدر لی جے میونگ کی حکومت نے شمالی کوریا کے ساتھ کشیدگی کم کرنے اور رابطہ بحال کرنے کی کوششیں کی تھیں، مگر تازہ بیانات ان کوششوں کے لیے ایک نیا چیلنج ہیں۔ فی الحال دونوں جانب سے کسی باقاعدہ فوجی تصادم کی تصدیق نہیں ہوئی، تاہم سرحد پر بڑھتی سرگرمی اور سخت بیانات نے سلامتی کی صورتحال کو حساس بنا دیا ہے۔
