پیرس: یورپ میں ایندھن کی بلند قیمتوں اور زندگی گزارنے کی بڑھتی لاگت کے خلاف احتجاج کئی ممالک تک پھیل گیا ہے، جبکہ فرانس میں مظاہروں اور بدامنی نے حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھا دیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق توانائی کے نئے جھٹکے نے گھرانوں اور کاروبار کی لاگت میں اضافہ کیا ہے اور مختلف ملکوں میں ووٹر روایتی جماعتوں سے ناراضی کا اظہار کر رہے ہیں۔

فرانس میں بعض احتجاج ابتدا میں مقامی مسائل سے شروع ہوئے لیکن بعد میں مہنگائی، ایندھن اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف وسیع مظاہروں میں تبدیل ہوئے۔ کئی شہروں میں لوٹ مار اور آتش زنی کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔ صدر ایمانوئل میکرون نے شہریوں کے معاشی مطالبات کو جائز قرار دیتے ہوئے تشدد اور توڑ پھوڑ کی مذمت کی ہے۔

رائٹرز کے مطابق امریکا اور ایران کے تنازع کے بعد توانائی کی عالمی قیمتوں میں تیزی نے یورپ میں پہلے سے موجود مہنگائی کے دباؤ کو مزید بڑھایا۔ یورپی کمیشن کے ایک تخمینے کے مطابق تجارت اور توانائی منڈیوں میں خلل سے یورپ کو تقریباً 100 ارب یورو کا معاشی بوجھ پڑا ہے۔ گیس اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافے نے ٹرانسپورٹ، زراعت اور روزمرہ اخراجات کو متاثر کیا ہے۔

فرانس کے علاوہ اٹلی، اسپین، پرتگال، بیلجیئم اور بعض دوسرے ممالک میں بھی مختلف نوعیت کے مظاہرے اور ہڑتالیں سامنے آئی ہیں۔ بعض سیاسی جماعتیں روس کے ساتھ توانائی روابط بحال کرنے کی وکالت کر رہی ہیں، جبکہ یورپی مرکزی دھارے کی پالیسی اب بھی یوکرین کی حمایت اور روس پر دباؤ برقرار رکھنے پر مرکوز ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق قوت خرید اور ایندھن کی قیمتیں آئندہ انتخابات میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ فرانس میں نیشنل ریلی سمیت دائیں بازو کی جماعتیں ایندھن پر ٹیکس کم کرنے کے مطالبے کو انتخابی مسئلہ بنا رہی ہیں۔ تاہم احتجاجی لہر کے طویل مدتی سیاسی نتائج ابھی واضح نہیں اور مختلف ممالک میں مقامی عوامل بھی اس ناراضی کو شکل دے رہے ہیں۔