نئی دہلی: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بھارت کے دو روزہ دورے پر پہنچ رہے ہیں، جہاں ان کی ملاقاتیں تجارت، توانائی اور روسی خام تیل کی بھارتی خریداری سے متعلق معاملات پر مرکوز رہیں گی۔ رائٹرز کے مطابق امریکا اور بھارت ایک جامع تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوشش کر رہے ہیں اور امریکی حکام نے حالیہ دنوں میں کہا ہے کہ معاہدہ تکمیل کے قریب ہے۔

روبیو کے پروگرام میں ممبئی اور جام نگر میں بھارتی حکومتی اور کاروباری شخصیات سے ملاقاتیں شامل ہیں۔ ان کی وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور ریلائنس انڈسٹریز کے چیئرمین مکیش امبانی سے ملاقات متوقع ہے۔ جام نگر میں ریلائنس دنیا کے بڑے ریفائننگ کمپلیکسز میں سے ایک چلاتی ہے، اس لیے توانائی اور خام تیل کی فراہمی دورے کے اہم موضوعات میں شامل ہیں۔

یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کی روسی خام تیل کی خریداری سے منسلک ممکنہ سخت محصولات کے نفاذ میں چھوٹ دی ہے۔ امریکی قانون کے تحت روسی تیل کے بڑے خریداروں پر زیادہ محصولات عائد کیے جا سکتے تھے، تاہم بھارت کے لیے چھوٹ نے تجارتی مذاکرات میں ایک اہم رکاوٹ کم کی ہے۔ روبیو نے کہا ہے کہ تجارتی معاہدے کو آگے بڑھانے کی کوشش اس فیصلے کے عوامل میں شامل تھی۔

بھارت اپنی خام تیل کی ضرورت کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے اور روس اس کے اہم سپلائرز میں شامل رہا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ نئی دہلی اپنی درآمدی ترکیب میں تنوع لا رہا ہے، تاہم روسی تیل کی خریداری اب بھی نمایاں ہے۔ واشنگٹن میں اس معاملے پر سیاسی اختلاف بھی موجود ہے، کیونکہ بعض قانون ساز روس پر زیادہ اقتصادی دباؤ کے حامی ہیں۔

روبیو کا دورہ کسی معاہدے پر دستخط کی ضمانت نہیں ہے۔ اگرچہ دونوں جانب سے مذاکرات کے آخری مرحلے کے قریب ہونے کے اشارے دیے گئے ہیں، حتمی تجارتی شرائط اور روسی توانائی سے متعلق امریکی پالیسی کا اطلاق مزید بات چیت سے مشروط ہے۔ دورے کے دوران سامنے آنے والے سرکاری اعلانات سے واضح ہوگا کہ دونوں ممالک تجارت اور توانائی کے معاملات میں کس حد تک عملی سمجھوتے تک پہنچتے ہیں۔