نیروبی: سوڈان اور جنوبی سوڈان کی سرحد پر واقع متنازع ابیی خطے میں ایک مارکیٹ پر ڈرون حملے کے نتیجے میں کم از کم 73 افراد ہلاک اور 19 زخمی ہوگئے ہیں۔ ابیی کے نگراں وزیر اطلاعات یوہانا اکول نگور نے رائٹرز کو بتایا کہ پیر کو متعدد ڈرونز نے مارکیٹ کو نشانہ بنایا۔

نگراں وزیر نے حملے کی ذمہ داری سوڈانی فوج پر عائد کی، تاہم رائٹرز کے مطابق انہوں نے اس الزام کے حق میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔ اس لیے حملہ آور کی شناخت کو آزادانہ طور پر تصدیق شدہ حقیقت نہیں سمجھا جا سکتا۔ واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد مقامی انتظامیہ کے بیان پر مبنی ہے اور جنگی یا متنازع علاقوں میں ابتدائی اعداد بعد میں تبدیل بھی ہو سکتے ہیں۔

ابیی تیل سے مالا مال علاقہ ہے جس پر سوڈان اور جنوبی سوڈان دونوں دعویٰ کرتے ہیں اور اس کا انتظام مشترکہ انتظامی بندوبست کے تحت کیا جاتا ہے۔ خطے میں ماضی میں بھی مسلح جھڑپیں اور مختلف گروہوں کے درمیان تشدد ہوتا رہا ہے، جس کے باعث شہری آبادی اور امن مشنز کو مسلسل خطرات کا سامنا رہتا ہے۔

گزشتہ سال ابیی میں اقوام متحدہ کے ایک اڈے پر ڈرون حملے میں بنگلہ دیشی امن اہلکار بھی ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔ تازہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب سوڈان میں جاری وسیع تر تنازع اور علاقائی عدم استحکام نے سرحدی علاقوں میں سلامتی کی صورتحال مزید پیچیدہ بنا دی ہے۔

حملے کے بعد فوری توجہ زخمیوں کے علاج، ہلاک ہونے والوں کی شناخت اور واقعے کی ذمہ داری کے تعین پر مرکوز ہے۔ دستیاب اطلاعات میں کسی آزاد تحقیق یا ذمہ داری کی حتمی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔ ابیی کی متنازع حیثیت اور مختلف مسلح فریقوں کی موجودگی کے باعث کسی بھی الزام کی غیر جانبدارانہ جانچ اہم ہوگی۔