پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ سعودی عرب پر حوثی حملوں کے تناظر میں پاکستان مملکت کی سلامتی، علاقائی سالمیت اور حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے ضروری مدد فراہم کر رہا ہے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے اجتماعی دفاعی تصور کو فعال قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس حوالے سے واضح اور مضبوط پیغام دے رہا ہے۔ انہوں نے فراہم کی جانے والی فوجی معاونت کی مخصوص نوعیت یا مقدار ظاہر نہیں کی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق معاہدے کا مقصد جارحانہ کارروائی نہیں بلکہ دفاع اور علاقائی استحکام ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تناظر میں اجتماعی دفاع کا حوالہ دیا اور کہا کہ رکن ممالک میں سے کسی کے خلاف براہ راست یا بالواسطہ جنگ کی صورت میں ردعمل اجتماعی ہو سکتا ہے۔ ان کے یہ بیانات پاکستان کی جانب سے دفاعی تعاون کی پالیسی کی وضاحت ہیں، تاہم عملی فوجی اقدامات کی تفصیلات سکیورٹی وجوہات کے باعث عوامی نہیں کی گئیں۔
انہوں نے ایران سمیت خطے کے مختلف فریقوں کے ساتھ پاکستان کے رابطوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کی کوشش کشیدگی کم کرنا اور فریقوں کو تحمل کی طرف لانا ہے۔ ان کے مطابق معاہدہ کسی مخصوص ملک کے خلاف تشکیل نہیں دیا گیا اور اس کا بنیادی مقصد امن، سلامتی اور استحکام ہے۔ انہوں نے مسلم ممالک کے درمیان تنازع کو مزید بڑھانے کے بجائے مذاکراتی حل کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
اسی دوران چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اسلام آباد میں نئے سعودی سفیر ڈاکٹر راجح تمی البقمی سے ملاقات کی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں شخصیات نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے فریم ورک میں ہونے والی پیش رفت پر اطمینان ظاہر کیا اور دفاعی تعاون، ادارہ جاتی روابط اور اسٹریٹجک رابطہ کاری مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔
خلیجی خطے میں جاری حملوں اور بحری راستوں کو درپیش خطرات کے باعث یہ دفاعی تعاون زیادہ نمایاں ہو گیا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے باب المندب اور آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی کا بھی ذکر کیا اور سعودی قیادت میں قائم کثیرملکی بحری دفاعی اتحاد میں پاکستانی بحری افسر کی نائب کمانڈر کی حیثیت سے موجودگی کی نشاندہی کی۔ موجودہ بیانات سے واضح ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے عزم کو دہرا رہا ہے، ساتھ ہی علاقائی کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطوں کو بھی جاری رکھنے کی پالیسی بیان کر رہا ہے۔

