واشنگٹن: امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی نمایاں کامیابی کے بعد واشنگٹن میں طاقت کا توازن تبدیل ہونے جا رہا ہے۔ رائٹرز کے مطابق ڈیموکریٹس نے سینیٹ میں کم از کم 54 نشستوں کے ساتھ اکثریت حاصل کی جبکہ ایوان نمائندگان میں بھی درجنوں نشستیں جیت کر کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ نئی کانگریس جنوری 2027 میں حلف اٹھائے گی، جس کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی موجودہ مدت میں پہلی مرتبہ دونوں ایوانوں میں مخالف جماعت کی اکثریت کا سامنا ہوگا۔
ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک رہنما حکیم جیفریز نے کہا کہ آنے والی اکثریت کی توجہ عوام کے اخراجات زندگی اور حکومتی جواب دہی پر ہوگی۔ دونوں ایوانوں کا کنٹرول ڈیموکریٹس کو کانگریسی کمیٹیوں کی قیادت، انتظامیہ سے دستاویزات اور گواہی طلب کرنے اور اہم قانون سازی پر زیادہ اثر و رسوخ دے گا۔ سینیٹ میں اکثریت صدر کی اعلیٰ سرکاری اور عدالتی نامزدگیوں کی منظوری کے عمل پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
رائٹرز کے مطابق انتخابی نتائج میں مہنگائی اور ایران کے ساتھ امریکی جنگ کے معاشی و سیاسی اثرات نمایاں موضوعات رہے۔ ریپبلکن پارٹی نے کئی ایسے علاقوں میں بھی نقصان اٹھایا جو حالیہ برسوں میں اس کے مضبوط گڑھ سمجھے جاتے تھے۔ ٹیکساس میں ڈیموکریٹس نے کئی دہائیوں بعد سینیٹ نشست جیتی اور گورنر کی دوڑ میں بھی کامیابی حاصل کی، جبکہ کنساس میں تقریباً ایک صدی بعد ڈیموکریٹک سینیٹر منتخب ہوا۔ بعض ریاستوں کے نتائج ابھی مکمل طور پر حتمی نہیں تھے، اس لیے سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی اکثریت مزید بڑھنے کا امکان بھی موجود تھا۔
صدر ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ ایران جنگ نے ان کی جماعت کے انتخابی نقصان میں کردار ادا کیا، تاہم انہوں نے فوجی اقدام کے اپنے فیصلے کا دفاع کیا۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی جنگ کو شکست کی بڑی وجہ قرار دیا۔ یہ سیاسی بیانات انتخابی نتائج کی تشریح ہیں؛ ووٹرز کے فیصلے متعدد مقامی، معاشی اور قومی عوامل سے متاثر ہوتے ہیں۔
نئی کانگریس کے آنے تک ریپبلکن موجودہ اختیارات برقرار رکھیں گے اور دسمبر کے بعد وفاقی حکومت کی فنڈنگ سے متعلق اہم قانون سازی بھی زیر غور آ سکتی ہے۔ جنوری کے بعد ممکنہ تقسیم شدہ حکومت ٹرمپ انتظامیہ کے قانون سازی کے ایجنڈے کو محدود کر سکتی ہے، جبکہ ڈیموکریٹس انتظامیہ، صدر کے خاندان اور اتحادیوں سے متعلق نگرانی اور تحقیقات بڑھانے کا عندیہ دے چکے ہیں۔

