جرمن مالیاتی ادارے ڈوئچے بینک نے پاکستان میں اپنی طویل مدتی موجودگی اور کاروباری سرگرمیوں کو برقرار رکھنے کا عزم دہراتے ہوئے کارپوریٹ بینکنگ اور انویسٹمنٹ بینکنگ میں مصنوعات اور کوریج بڑھانے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ یہ مؤقف بینک کے علاقائی چیف ایگزیکٹو جمال الکشی نے اسلام آباد میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات کے دوران پیش کیا۔
سرکاری بیان کے مطابق ڈوئچے بینک پاکستان سے متعلق اپنی مالیاتی ایکسپوژر کی گنجائش بڑھانے اور مقامی مارکیٹ میں موجودگی مضبوط کرنے کے امکانات دیکھ رہا ہے۔ بین الاقوامی بینکوں کی شرکت حکومت، بڑے کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں کے لیے بیرونی فنانسنگ، کیپٹل مارکیٹ ٹرانزیکشنز، تجارت اور رسک مینجمنٹ میں اہم ہو سکتی ہے۔
وزیر خزانہ نے بینک کی پاکستان کے ساتھ مسلسل شمولیت کا خیرمقدم کیا اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور نجی شعبے کے شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو سرمایہ کاری متحرک کرنے اور مالیاتی منڈی گہری کرنے کے لیے اہم قرار دیا۔ ملاقات میں ڈوئچے بینک کے پاکستان کنٹری منیجر علی حیدر زیدی بھی شریک تھے۔
یہ اظہار دلچسپی کسی مخصوص نئی سرمایہ کاری، قرض یا بانڈ ٹرانزیکشن کی حتمی منظوری نہیں ہے۔ بینک کی عملی توسیع کریڈٹ رسک، ریگولیٹری شرائط، مارکیٹ طلب اور پاکستان کے معاشی حالات کے جائزے پر منحصر ہوگی۔ تاہم ایک بڑے عالمی بینک کا طویل مدتی عزم بیرونی سرمایہ کاروں کے اعتماد کے تناظر میں اہم اشارہ سمجھا جا سکتا ہے۔
پاکستان حال ہی میں بین الاقوامی بانڈ مارکیٹ میں بھی واپس آیا ہے اور 3 ارب ڈالر کا یورو بانڈ فروخت کیا ہے۔ ایسے ماحول میں عالمی بینکوں کی سرگرمی بڑھنا حکومت اور نجی کمپنیوں کے لیے بین الاقوامی مالی وسائل تک رسائی بہتر کر سکتا ہے۔ اصل اثر اس وقت واضح ہوگا جب ڈوئچے بینک اپنی نئی مصنوعات، مالی حدود یا پاکستان سے متعلق عملی لین دین کا اعلان کرے گا۔




