کراچی: دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کی بندش کے باعث متعدد پمپ غیر فعال ہوگئے ہیں، جس کے نتیجے میں کراچی کے بعض علاقوں میں پانی کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے ترجمان کے مطابق اتوار کی صبح تقریباً چھ بجے دھابیجی کے مختلف حصوں کو بجلی کی فراہمی معطل ہوئی اور اسٹیشن کے 21 میں سے 10 پمپ کام کرنا بند کرگئے۔
واٹر کارپوریشن کے مطابق بجلی کی بندش نے دھابیجی کے تیسرے مرحلے، چوتھے مرحلے اور کے تھری پمپ ہاؤس کو متاثر کیا۔ دھابیجی کراچی کے لیے پانی کی فراہمی کا ایک مرکزی پمپنگ مرکز ہے، اس لیے وہاں بجلی میں تعطل کا اثر فوری طور پر شہر کی مجموعی ترسیلی صلاحیت پر پڑ سکتا ہے۔ ادارے نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں پانی کی فراہمی جزوی طور پر کم ہوسکتی ہے، تاہم بجلی بحال ہوتے ہی بند پمپ دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
کے الیکٹرک نے بجلی کی بندش کو اپنے نظام میں کیبل کی خرابی سے منسلک کیا۔ کمپنی کے ترجمان کے مطابق قریب موجود جھاڑیوں میں آگ لگنے سے واٹر کارپوریشن سے متعلق کیبلز کو نقصان پہنچا۔ کے الیکٹرک کی تکنیکی ٹیم موقع پر موجود رہی اور دونوں اداروں نے بجلی کی جلد بحالی کے لیے رابطہ برقرار رکھنے کی تصدیق کی۔
کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے ترجمان نے کہا کہ بجلی کی فراہمی بحال ہونے کے فوراً بعد متاثرہ دس پمپ چلائے جائیں گے اور پانی کی ترسیل معمول پر لانے کا عمل شروع ہوگا۔ تاہم بڑے پمپنگ نظام میں تعطل کے بعد مختلف علاقوں تک پانی پہنچنے میں نظام کے دباؤ اور ترسیلی فاصلے کے باعث وقت لگ سکتا ہے۔ رپورٹ میں متاثرہ علاقوں کی مکمل فہرست فراہم نہیں کی گئی۔
دھابیجی پمپنگ اسٹیشن کا بجلی پر انحصار کراچی کے پانی کے نظام کی ایک اہم عملی کمزوری سمجھا جاتا ہے، کیونکہ مختصر دورانیے کی بندش بھی بڑے حجم کی پمپنگ کو روک سکتی ہے۔ شہر پہلے ہی پانی کی دستیابی، پرانے انفراسٹرکچر اور سیوریج نظام سے متعلق مسائل کا سامنا کرتا ہے۔ سندھ حکومت نے حال ہی میں مالی سال 2026-27 کے لیے کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے پانی اور سیوریج چارجز میں 7.05 فیصد اضافے کی منظوری بھی دی تھی۔
موجودہ واقعے میں واٹر کارپوریشن اور کے الیکٹرک دونوں نے خرابی دور کرنے کے لیے رابطے کی اطلاع دی ہے۔ پانی کی مکمل بحالی کا انحصار بجلی کے نظام اور متاثرہ پمپوں کے دوبارہ فعال ہونے پر ہے، اس لیے شہریوں کے لیے فراہمی کی صورتحال متعلقہ اداروں کی تازہ اطلاع کے مطابق مختلف ہوسکتی ہے۔




