ڈیرہ اسماعیل خان: خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کارروائی کی جس میں سکیورٹی ذرائع کے مطابق آٹھ دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی اور ریڈیو پاکستان نے اتوار 4 اکتوبر کو رپورٹ کیا کہ کارروائی علاقے میں مسلح افراد کی موجودگی کی اطلاع پر کی گئی تھی۔

اے پی پی کے مطابق ہلاک ہونے والوں کو ریاستی اصطلاح میں فتنہ الخوارج سے وابستہ قرار دیا گیا اور بتایا گیا کہ ان میں تین اہم کمانڈر بھی شامل تھے۔ کارروائی کے بعد مبینہ طور پر بڑی مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود اور غیر ملکی کرنسی بھی برآمد ہوئی۔ رپورٹ میں کسی شہری جانی نقصان یا سکیورٹی اہلکاروں کے نقصان کا ذکر نہیں کیا گیا۔

ریڈیو پاکستان نے بھی اسی کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن عزمِ استحکام کے وسیع تر انسداد دہشت گردی فریم ورک کے تحت کیا گیا۔ سرکاری ذرائع نے فورسز کے عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی کے خاتمے اور دیرپا امن کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی۔

ڈان نے سرکاری میڈیا کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ہلاک افراد میں تین اہم کمانڈر شامل تھے اور جائے کارروائی سے غیر ملکی کرنسی کے ساتھ اسلحہ اور گولہ بارود ملا۔ ڈان نے یہ بھی یاد دلایا کہ اس سے ایک روز قبل جنوبی وزیرستان میں اور اس سے پہلے شمالی وزیرستان کے علاقے عیدک میں بھی سکیورٹی آپریشنز کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، جس سے خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں حالیہ انسداد دہشت گردی سرگرمیوں کی شدت ظاہر ہوتی ہے۔

اس واقعے کی تفصیلات بنیادی طور پر سکیورٹی ذرائع اور سرکاری میڈیا کی فراہم کردہ معلومات پر مبنی ہیں۔ ہلاک افراد کی شناخت، ان کے مبینہ تنظیمی عہدوں اور برآمد شدہ سامان کی آزادانہ تصدیق فوری طور پر سامنے نہیں آئی۔ اسی لیے رپورٹ میں سرکاری دعوؤں کو ان کے ماخذ کے ساتھ منسوب کیا گیا ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان اور اس سے ملحق جنوبی اضلاع گزشتہ برسوں میں شدت پسند حملوں اور سکیورٹی آپریشنز کا مرکز رہے ہیں۔ تازہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب وفاقی اور صوبائی سطح پر انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی، نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد اور خیبر پختونخوا میں سکیورٹی تعاون سیاسی بحث کا بھی اہم موضوع بنا ہوا ہے۔