اسلام آباد: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے عمومی علاقے زرکانی میں انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائی کے دوران چھ دہشت گردوں کو ہلاک کردیا، جبکہ شدید فائرنگ کے تبادلے میں دو فوجی جوان شہید ہوگئے۔
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق کارروائی 24 اکتوبر کو علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی سے متعلق اطلاعات پر کی گئی۔ فوجی بیان میں مارے جانے والے افراد کو تحریک طالبان پاکستان سے منسلک اصطلاح کے تحت بیان کیا گیا اور ان پر سکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہریوں کے خلاف متعدد حملوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تفصیل فوری طور پر دستیاب نہیں تھی، اس لیے خبر میں انہیں آئی ایس پی آر کے مؤقف کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
فوج کے مطابق آپریشن کے دوران فائرنگ کا شدید تبادلہ ہوا جس میں 36 سالہ نائیک غلام مرتضیٰ اور 30 سالہ سپاہی تاثیر احمد شہید ہوئے۔ نائیک غلام مرتضیٰ کا تعلق ضلع گجرات اور سپاہی تاثیر احمد کا تعلق ضلع تلہ گنگ سے بتایا گیا ہے۔ آئی ایس پی آر نے دونوں اہلکاروں کی کارروائی کے دوران پیشہ ورانہ جرات کو سراہا۔
بیان میں کہا گیا کہ مارے گئے دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے میں کسی دوسرے ممکنہ دہشت گرد کی موجودگی کے پیش نظر کلیئرنس اور سرچ آپریشن جاری رکھا۔
آئی ایس پی آر نے اس کارروائی کو وفاقی ایپکس کمیٹی کی منظوری سے جاری انسداد دہشت گردی مہم اور عزم استحکام کے وسیع تر فریم ورک سے جوڑا۔ فوجی ترجمان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور اہلکاروں کی قربانیاں اس عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔
خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع، بالخصوص ڈیرہ اسماعیل خان اور ملحقہ علاقوں میں حالیہ عرصے کے دوران سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان متعدد جھڑپیں اور انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائیاں رپورٹ ہوئی ہیں۔ زرکانی کی تازہ کارروائی اسی سکیورٹی ماحول میں سامنے آئی ہے۔ حکام کی جانب سے آپریشن کے بعد علاقے میں مزید تلاش جاری رکھنے کا اعلان اس امکان کے پیش نظر کیا گیا کہ نیٹ ورک کے دوسرے ارکان یا سہولت کار موجود ہو سکتے ہیں۔

